انٹرنیشنل فائر فائٹرز ڈے کے موقع پر ریسکیو 1122اور مقامی فیکٹری کی جانب سے مشترکہ آزمائشی مشقوں کا انعقاد

جمعہ مئی 23:20

سیالکوٹ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) انٹرنیشنل فائر فائٹرز ڈے کے موقع پر ساہوالہ کے مقام پر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو1122سیالکوٹ اور مقامی فیکٹری کی جانب سے مشترکہ آزمائشی مشقوں کا انعقاد کیا گیا جس میں ریسکیورز ،ریسکیو محافظین اورفیکٹری کے ملازمین کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ان مشقوں کا عنوان -"کسی بھی بڑے انڈسٹریل یونٹ کسی ناگہانی صورتحال سے کیسے نبرد آزما ہوا جائی- "تھا۔

اس مقصد کیلئے ریسکیو1122سیالکوٹ اورملازمین سال 2013سے ہر بین الاقوامی فائر فائٹرز ڈے کے موقع پر مشقوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ان فرضی مشقوں کے دوران سب سے پہلے خطرے کے الارم بجا کر فیکٹڑی کے ورکرز کو اسمبلی ایریا میں جمع کرکے انکی گنتی کی گئی اور اسمبلی میں غیر حاضر ورکرز کو وکٹم خیال کرتے ہوئے انکی تلاش کا کام فیکٹری کی اپنی ٹیموں نے جوکہ ریسکیو1122کے تربیت یافتہ ریسکیو محافظین پر مشتمل ہیں نے شروع کیا۔

(جاری ہے)

اس دوران ریسکیوکنٹرول کو کال موصول ہونے پر ریسکیو1122کی ایمبولینسز، فائر وہیکلز ، ریسکیو وہیکلز اور دیگر ریسکیو عملہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سیدکمال عابد کی سرکردگی میں موقع پر پہنچ کر انسیڈینٹ کی کمان سنبھالی اور ریسکیورزنے لاپتہ افراد کی تلاش و طبی امداد ، آگ بجھانے ،بلندی پر پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے واتارنے کا مظاہرہ کرکے دکھایا۔

بعد ازاں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شاہد علی نے کہا کہ ریسکیو1122عوامی خدمت کا ادارہ ہے اور ہر سال ریسکیو1122کے ساتھ عملی مشقیں کرکے ہم اپنے ورکرز کی تربیت کر رہے ہیں کہ ایمرجنسی کی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہئے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سیدکمال عابد نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ڈاکٹر فرخ نوید کاخصوصی پیغام پڑھ کر سنایاجس میں انہوں نے کہا کہ میں ان تمام ریسکیو اہلکاروں اور فائر فائٹرز کو آج کے دن کے حوالے سے خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے مشن میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور دنیا کی تاریخ میں امر ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سیدکمال عابد نے خطاب میں کہا کہ ریسکیورز ایمرجنسی میں مدد کے ساتھ ساتھ محفوظ معاشرہ کے قیام کیلئے اپنی ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سالانہ مشقوں اور ریسکیو1122کے تربیت یافتہ ریسکیو محافظین کی ٹیموں کی بدولت متعدد بار فیکٹری میں پیش آنے والے چھوٹے چھوٹے حادثات کو سانحات بننے سے روک دیا گیااور یہ اقدام دیگر چھوٹے بڑے صنعتی یونٹس کے لئے قابل تقلید ہے۔