آرمی چیف نے مزید 11 دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کر دی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ مئی 17:20

آرمی چیف نے مزید 11 دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کر دی
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 مئی۔2018ء) آرمی چیف نے مزید 11 دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کر دی ہے جبکہ ٹرائل کورٹ نے دیگر 3 خطرناک دہشت گردوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی۔۔آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں، دہشت گردی کی سنگین وارداتوں اور تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے میں بھی ملوث ہیں، دہشت گردوں کو 24 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 60 افراد کے قتل پر سزائے موت دی گئی، ان دہشت گردوں کے حملوں میں مجموعی طور پر 142 افراد زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطاب دہشت گردوں برہان الدین، شاہیر خان اور گلفراز خان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، تینوں دہشت گردوں نے مردان میں نماز جنازہ پر حملہ کر کے 30 افراد کو قتل کیا، اس حملے میں رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عمران خان مہمند بھی جاں بحق ہوئے تھے، تینوں دہشتگردوں نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔

(جاری ہے)

آئی ایس پی آر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں پر مجموعی طور پر 60 شہریوں کو قتل،، 36 کو زخمی کرنے کا الزام تھا، اور اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں سمیت 24 سیکورٹی اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا جبکہ انہوں نے 142 معصوم افراد کو زخمی بھی کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزائے موت اور دیگر سزائیں سنائی جاچکی تھیں، جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔محمد زیب پر پاک فوج کے 5 اہلکاروں کو شہید اور 6 کو زخمی کرنے، رکن اسمبلی عمران خان مہمند کے قتل،، ملاکنڈ یونیورسٹی پر حملے سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا الزام تھا۔۔دہشت گرد برہان الدین ولد عمر دراز، شہیر خان ولد رحمان الدین اورلال گل خان ولد وصلی خان نے مردان کے علاقے زرگرانو کلی میں ایک نماز جنازہ پر حملہ کیا جس سے رکن صوبائی اسمبلی عمران خان مہمند سمیت 30 افراد شہید اور 100 کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔

سلیم ولد عبدالمتین نے 3 شہریوں سمیت 4 سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جبکہ انہوں نے 12 افراد کو زخمی بھی کیا، اس کے علاوہ اس نے سوات کے سرکاری ہائی سکول کو بھی تباہ کیا۔عزت خان پر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت سمیت مسلح افواج اور ملا کنڈ یونیورسٹی پر حملوں کا الزام تھا۔۔آئی ایس پی آر کے مطابق تمام مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔