پی ٹی آئی 12مئی حکیم سعید گراؤنڈ گلشن اقبال میں ہر صورت میں جلسہ کرے گی ،فردوس شمیم نقوی

حکیم سعید گراؤنڈ پیپلزپارٹی کی جاگیر نہیں،سندھ حکومت کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے ،رہنما پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس

پیر مئی 18:32

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صدر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی 12مئی حکیم سعید گراؤنڈ گلشن اقبال میں ہر صورت میں جلسہ کرے گی ۔حکیم سعید گراؤنڈ پیپلزپارٹی کی جاگیر نہیں ہے اور نہ ہی یہ پاک بھارت سرحدی معاملہ ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ شہر میں امن کی فضا قائم رہے ۔پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے ۔

12مئی کراچی کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ۔اب شہر میں امن قائم ہوگیا ہے ۔12مئی کو پی ٹی آئی کراچی شہر میں امن کا جشن منائے گی اور عمران خان شہر کے حوالے سے اہم اعلانات کریں گے ۔اگر پیپلزپارٹی نے ہمیں جلسے سے روکا تو ہم پھر بھی یونیورسٹی روڈ پر جلسہ کریں گے ۔ا ن خیالا ت کا اظہار انہوںنے پیر کو حکیم سعید گراؤنڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر پی ٹی آئی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات الیاس شیخ، لیبر ونگ کراچی کے صدر سربلند خان، ڈسٹرکٹ صدر سرور راجپوت، سیف الرحمن، شہزاد قریشی اور دیگر عہدیداران و کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ہم نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ جمعے کی شام کو بارہ مئی کا جلسہ جس سے چیئرمین عمران خان خطاب کریں گے، یہ طے ہوا کہ وہ حکیم سعید شہید گرانڈ میں ہوگا۔

پریس کانفرنس کے دوران ہمیں یہ بات بتائی گئی کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسی جگہ جلسہ رکھا ہے۔ ہم نے اسی پریس کانفرنس میں سعید غنی کو مخاطب کرکے میں نے درخواست کی اور کہا کہ سعید بھائی، ہم نے یہ جگہ چن لی ہے۔ ہماری اشتہاری مہم چل پڑی ہے اور ہم نے کیمپ بھی لگا لیا ہے۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ کوئی اور جگہ چنیں کیونکہ ہمیں خبر یہی تھی کہ آپ بلدیہ میں جلسہ کرنے والے ہیں۔

اس لحاظ سے ہمارے پاس سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے خبریں موجود تھیں۔ یہ کسی ایک اخبار کی نہیں بلکہ کافی سارے اخباروں کی خبر تھی۔ خبر یہ تھی کہ بلاول بھٹو زرداری اگلے چار ہفتوں میں کراچی کے ہر ضلعے میں جلسہ کریں گے۔ لیکن اب جو ہورہا ہے، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی اور بات ہوسکتی ہے۔ اس وقت سندھ کی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

حکومت وقت کو دل بڑا کرنا چاہئے کیونکہ امن و امان،، معاشرے میں شائستگی برقرار رکھنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ہم ایک پارٹی کی حیثیت سے دوبارہ میڈیا کے توسط سے ان سب سے گزارش کرتے ہیں کہ شہر کراچی کو پر امن رہنا چاہئے۔ محاذ آرائی نہیں ہونی چاہئے۔ لڑائی جھگڑے کی فضا نہیں ہونی چاہئے۔ ہم آپ سے مدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ ہم اس جگہ پر پہلے آئے ہیں۔

ہم نے لوگوں کو پہلے یہ اعلان کردیا ہے۔ آپ کی حکومت ہے۔ آپ کی مرضی ہے آپ جب کی دکھا دیں آپ نے اجازت کے لیے درخواست دی ہو۔ ہمیں تو حکومت سے اجازت ملتی نہیں ہے۔ ہم انہیں مطلع کردیتے ہیں کہ ہم یہاں جلسہ کر رہے ہیں اور ہمیں سیکورٹی دینا چاہیں دے دیں، نہیں دینا چاہیں تو بھی آپ کی مرضی ہے۔ ہم مطلع کرتے ہیں تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نے آگاہ نہیں کیا تھا۔

آگاہ کرنے کے طریقے بہت ہیں۔ سب سے مضبوط طریقہ پریس کانفرنس اور میڈیا کا ہے جس میں پوری تفصیلات جاتی ہیں کہ ہم نے کیا کہا، کیسے کہا اور کس لہجے میں کہا۔ ہم نے انہیں یہ نہیں کہا کہ ہمارا کوئی زور ہے اور ہم کر کے دکھائیں گے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ آپ بھی جلسے کیجئے،ہم بھی کریں گے۔ اپنے جلسے میں آپ اپنی کہیے، ہم اپنی کہیں گے۔ یہ ایک مقام ہے جہاں جلسہ رکھا گیا ہے، یہ کوئی ہندوستان اور پاکستان کی سرحد نہیں ہے۔

ہم یہاں پہلے آچکے ہیں، اگلی بار آپ آئیے۔ ضرور جلسہ کیجئے۔ یہ گرانڈسب کا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اسے اپنی ملکیت قرار نہیں دیتی۔ ہم ایک بار پھر ان سے درخواست کرنے کو تیار ہیں کہ فضا کو پر امن و پر سکون رکھا جائے۔ اس شہر پر چونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، ہم ایک بار پھر درخواست کرتے ہیں کہ برادرِ محترم آپ لوگ ہمارے لیے تھوڑی سی گنجائش پیدا کیجئے۔

ایک سوال کے جواب میں فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ جمعے کو چار بجے اسلام آباد سے اعلان ہوا ۔دفاتر پانچ بجے بند ہوجاتے ہیں۔ اتوار کے دن چھٹی ہوتی ہے۔ اس لیے آج ہم جمع ہوئے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ میں نے جو گزارش یہاں کی، وہی ان کے سامنے بھی رکھی۔ لالہ بھی موجود تھے، اقبال بھائی بھی موجود تھے۔ ان سے بھی یہی گزارش کی کہ دیکھئے ہماری پبلسٹی ہوچکی ہے، تین دن سے یہاں کیمپ لگا ہوا ہے۔

ہماری ریلی بھی یہاں آئی ہے اور بہت سیاسی سرگرمیاں ہوئیں جو پورے شہر کو معلوم ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ یہ جلسہ امن کا جشن ہے۔ اس شہر میں بہت دنوں بعد امن آیا ہے۔ بارہ مئی ایک وہ دن تھا جب اس شہر کے امن کے پرخچے اڑا دئیے گئے۔ آج جب بارہ مئی کو شہر اتنا پر سکون ہے تو ہم اس کا جشن منانا چاہتے ہیں اور ہم شہریوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پچھلے دس پندرہ دن میں جو کچھ شہر میں ہوا، اس سے امن کو خطرہ ہے۔

ہم نہیں چاہتے کہ یہ چنگاری کسی آگ میں تبدیل ہوجائے۔ ہم لوگوں کو جگانے بھی آئے ہیں۔ بات کرنے، امن کے فائدے بتانے، کراچی کا پیکیج انانس کرنے آئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے انتیس اپریل میں پورے پاکستان کے لیے گیارہ نکات دئیے تھے ۔ اس میں کراچی بھی شامل تھا لیکن کراچی کے کچھ علیحدہ بھی مسائل ہیں۔ تو ہم بارہ مئی کو کراچی کا پیکیج انانس کرنے والے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ پہلے ہم جو کوشش کر رہے ہیں، وہ میڈیا کے ذریعے بھی کریں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے لگتا ہے کہ حتمی طور پر حق ہمارا بنتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی زیادتی کررہی ہے تو جلسہ پھر بھی یونیورسٹی روڈ پر ہوگا، ہوسکتا ہے سڑک پر ہولیکن کہیں اور نہیں ہوگا۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا۔ ہم تو صلح جوئی کی راہ دینا چاہتے ہیں۔

اس موقعے پر پی ٹی آئی کراچی کے کارکنان نے نعرے بازی بھی کی۔ فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ یہ ہمیں ہی اکسایا جارہا ہے۔ ہم کراچی کے امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔ ہمیں کراچی کو قومی دھارے میں لانا ہے۔ ہم لڑائی جھگڑے پر یقین نہیں رکھتے۔ ہماری بائیس سالہ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ ہم اپنے پارٹنرز کو مستقل مصیبت نہیں کہتے، اس لیے ہم پارٹنر ہی نہیں بنا رہے۔ ہم اکیلے کھڑے ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ دوسروں سے مختلف ہیں۔