موجودہ حکومت نے چترال میں اربوں روپے کے منصوبے شروع اور مکمل کئے ہیں‘ انجینئرڈ سسٹم کامیاب نہیں ہو سکتے‘ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت تھی تاہم سینٹ میں اس کا ایک ممبر منتخب نہیں ہو سکا‘ کراچی میں ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے‘

رکن قومی اسمبلی افتخار الدین کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں اظہار خیال

جمعرات مئی 16:20

اسلام آباد۔ 10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) آل پاکستان مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی افتخار الدین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے چترال میں اربوں روپے کے منصوبے شروع اور مکمل کئے ہیں‘ انجینئرڈ سسٹم کامیاب نہیں ہو سکتے‘ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت تھی تاہم سینٹ میں اس کا ایک ممبر منتخب نہیں ہو سکا‘ کراچی میں ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے‘ اس لئے ایسی سینٹ کو کون مانے گا۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں افتخار الدین نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں چترال کے لئے اربوں روپے کے منصوبے دیئے‘ کیلاش کے لئے اربوں روپے کے منصوبے کا اعلان کیا جارہا ہے‘ لواری ٹنل کے لئے 99 فیصد فنڈز موجودہ حکومت نے جاری کیے۔

(جاری ہے)

اس بارے سردیوں میں لواری ٹنل سے بلاتعطل آمدورفت جاری رہی یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا۔

چترال سے چار ملکوں تک رسائی ممکن ہے۔ گولن گول کے 32 ارب روپے میں سے 28 ارب روپے اس حکومت نے دیئے۔ چترال پاکستان میں واحد علاقہ ہے جہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ پاکستان کو چلانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ پاکستان کا مستقبل محفوظ صرف ووٹ کے تقدس سے ہی ممکن ہے۔ 2014ء کے دھرنے کی وجہ سے سی پیک کا منصوبہ تین سال تک التواء کا شکار رہا۔ انجینئرڈ سسٹم کامیاب نہیں ہوئے۔

مئی کے بعد جو لوگ بڑے سیاسی دھماکے کی بات کرتے ہیں تو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ بلوچستان میں (ن) لیگ اکثریتی پارٹی تھی تاہم ایک سینیٹر نہیں بن سکا۔ سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کے پی کے میں خود عمران خان نے تسلیم کیا کہ ان کے لوگ بکے‘ اس طرح کی سینٹ آگے کیا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں بیروزگاری بہت زیادہ ہے‘ حکومت نے موبائل فون کی سروس مہیا کی۔ یونیورسٹی آف چترال بجٹ میں شامل ہے اس کی سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری لی جائے۔ گرڈ سٹیشن اور ٹرانسمیشن لائن کا پی سی ون کلیئر کرایا جائے اس منصوبے سے پورے چترال کو بجلی ملے گی۔ چترال کے لئے پی آئی اے کی روزانہ کی بنیاد پر پروازیں شروع کی جائیں۔