الیکشن کمیشن:انتخابی نشان کیلئےسیاسی جماعتوں سےدرخواستیں مانگ لیں

سالانہ گوشورے جمع کروانے اورخواتین کو5 فیصد ٹکٹس دینے والی جماعت کو ہی انتخابی نشان الاٹ ہوگا،نئےالیکشن ایکٹ پرپورا نہ اترنےوالی جماعت کوانتخابی نشان نہیں دیا جائیگا۔ میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 16:32

الیکشن کمیشن:انتخابی نشان کیلئےسیاسی جماعتوں سےدرخواستیں مانگ لیں
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11مئی 2018ء) : الیکشن کمیشن آف پاکستان نےعام انتخابات 2018ء کے حوالے سے انتخابی نشانات الاٹ کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں سےدرخواستیں طلب کرلی ہیں، جس کے تحت سالانہ گوشورے جمع کروانے اورکم ازکم 5 فیصد خواتین کوٹکٹ دینے والی جماعت کوانتخابی نشان الاٹ کیا جائے گ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے والی جماعت کونشان الاٹ نہیں ہوگا۔

اسی طرح نئے الیکشن ایکٹ پرپورا اترنے والی جماعت کو ہی انتخابی نشان الاٹ ہوگا۔ جبکہ کم ازکم 5 فیصد خواتین کوٹکٹ نہ دینے والی جماعت کوانتخابی نشان نہیں ملےگا۔ الیکشن کمیشن نے ڈیڈ لائن دی ہے کہ 15 مئی تک تمام سیاسی جماعتیں مطلوبہ تفصیلات جمع کرائیں اس کے برعکس انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

واضح رہے الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات کوصاف شفاف اور یقینی بنانے کیلئے اپنے کام تیز کردیے ہیں۔

الیکشن کمیشن نےاسلام آباد ہائیکورٹ کا گزشتہ روز کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا وفاق اور صوبوں میں 11اپریل کا بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں پرپابندی کانوٹیفکیشن کالعدم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔۔الیکشن کمیشن نے ترقیاتی کاموں،بھرتیوں اورتبادلوں پرپابندی عائد کی گئی تھی۔جبکہ وفاق اور صوبوں نےالیکشن کمیشن کے حکم کو اسلام ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

واضح رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات2018ء کے پیش نظر حکم جاری کیا تھا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں اور محکموں میں نہ توبھرتیاں کرسکیں گی اور نہ ہی جاری ترقیاتی کاموں کوجاری رکھ سکیں گی۔۔الیکشن کمیشن نے انتخابات کوصاف شفاف بنانے اور قبل الیکشن دھاندلی کو روکنے کیلئے وفاقی اور صوبوں میں ترقیاتی کاموں ، بھرتیوں اورتبادلوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

واضح رہےالیکشن کمیشن کی عام انتخابات2018ء کے انعقاد کیلئے تیاریاں فائنل مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے نہ صرف اقدامات کیے جارہے ہیں بلکہ ووٹرز لسٹوں اورانتخابی عملے کی تربیت بھی شروع کردی ہے۔ جن میں ریٹرننگ آفیسراوراسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرودیگرعملہ بھی شامل ہے۔ الیکشن کمیشن نےصاف شفاف انتخابی عمل کویقینی بنانے کے تناظر میں ہی وفاقی اور صوبوں میں ترقیاتی کاموں ، بھرتیوں اورتبادلوں پر پابندی عائد کی تھی۔

تاکہ الیکشن کے بعد کوئی جماعت پری پول دھاندلی کا الزام عائد نہ کرسکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2018ء کا صاف شفاف انعقاد اور پولنگ کے دوران سکیورٹی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ الیکشن 2013ء کے فوری بعد الیکشن کمیشن پردھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں مختلف پولنگ اسٹیشنز پردھاندلی ہوئی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دھاندلی کو بے نقاب کرنے کیلئے اسلام آباد میں ایک سوچھبیس دن کا دھرنا بھی دیا۔ تاہم عمران خان کے مطالبے پرچار حلقے بھی کھولے گئے۔ تاہم اس بار الیکشن میں دو بڑی جماعتوں میں ٹف مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ ن اور دوسری جماعت تحریک انصاف ہے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی اورمذہبی اتحاد ایم ایم اے بھی الیکشن میں بھرپورانداز میں اترنے کیلئے تیاری کررہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر حلقہ بندیوں کا کام بھی مکمل کرلیا ہے۔تاہم ملک بھر میں اکثر حلقے ایسے ہیں جو تبدیل کردیے گئے ہیں۔ جن پر سیاسی جماعتوں کے منتخب اور نامزد امیدواروں نے شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ تاہم اب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء کیلئے2 تاریخیں سامنے آگئی ہیں،،الیکشن کمیشن نےعام انتخابات کے لیے 25 یا 26 جولائی کوپولنگ کی تاریخوں پرغور شروع کردیا ہے۔