2018کے انتخابات میں منبر و محراب والے لندن اور واشنگٹن کے آلہ کاروں کو شکست دیکر خلافت کا بابرکت نظام نافذ کرینگے سراج الحق

متحدہ مجلس عمل پاکستان کو اس کی حقیقی منزل اسلامی نظام سے ہمکنار کرنے کیلئے جہاد کبیر کررہی ہے ،13مئی کا جلسہ قومی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا بلوچستان سمیت صوبوں اور مرکز میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہوگی تو ہم احتساب کرکے دکھائیں گے،کرپٹ اشرافیہ ،پیسے پر بکنے اور طبلے بجا کر ناچنے والے اللہ والوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ‘امیر جماعت اسلامی

جمعہ مئی 23:02

2018کے انتخابات میں منبر و محراب والے لندن اور واشنگٹن کے آلہ کاروں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی و نائب صدر متحدہ مجلس عمل پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ 2018کے انتخابات میں منبر و محراب والے لندن اور واشنگٹن کے آلہ کاروں کو شکست دیکر ملک میں خلافت کا بابرکت نظام نافذ کریں گے، بلوچستان سمیت صوبوں اور مرکز میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہوگی تو ہم احتساب کرکے دکھائیں گے، متحدہ مجلس عمل پاکستان کو اس کی حقیقی منزل اسلامی نظام سے ہمکنار کرنے کیلئے جہاد کبیر کررہی ہے ،13مئی کا جلسہ قومی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا،کرپٹ اشرافیہ ،پیسے پر بکنے اور طبلے بجا کر ناچنے والے اللہ والوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ، بلوچستان اورپاکستان کے تمام مسائل کا حل شریعت کے نظام میں ہے ،اگر ملک کو خوف خدا رکھنے والی قیادت ملتی تو آج چیف جسٹس کو صحت کا نظام ٹھیک کرنے کیلئے ایک ایک ہسپتال نہ جانا پڑتا اور نہ دودھ اور ادویات میں ملاوٹ کے خاتمہ کیلئے ادھر ادھر بھاگنا پڑتا،ملک میں دو نمبر چیز یں اس لئے ہیں کہ ملک کو آج تک ایک نمبر قیادت ہی نصیب نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے ضلع قلات کے مقام منگوچر میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔۔جلسہ سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل متحدہ مجلس عمل اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری و دیگر نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل ملک میں بڑی قوت اور حقیقی متبادل بن کر سامنے آیا ہے ۔

ہمیں یقین ہے کہ 2018کا الیکشن سیکولر ازم کیلئے موت اور امریکہ کے آلہ کاروں کیلئے شکست کا دن ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام کسی مولوی یا پیر کا نہیں ،یہ اللہ کی بادشاہت اور اللہ کے رسول ﷺ کی شریعت کا نظام ہے ،یہی وہ نظام ہے جس نے دنیا کی سب سے بگڑی ہوئی قوم کی تقدیر بدل کر انہیں حکمران بنا دیا تھا ۔جب قرآن کے مطابق فیصلے ہونگے تو کوئی فٹ پاتھ پر بھوکا نہیں سوئے گا،کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہوگا اور کوئی غریب اور مفلس مریض علاج کے بغیر نہیں مرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کا ناسور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ہے جس نے عوام کو غربت ،،مہنگائی ،بے روز گاری ،بدامنی اور لوڈ شیڈنگ کے تحفے دیئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے ما لا مال کررکھا ہے مگر کرپٹ قیادت کی وجہ سے سب سے زیادہ غربت ،بے روز گاری بلوچستان میں ہے اور سب سے زیادہ بچے بھی بلوچستان کے سکولوں سے باہر ہیں ۔

عوام کو تعلیم اور علاج کی سہولتیں دستیاب ہیں نہ روز گارملتاہے ۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہا کہ ہماری سیاست کا مرکز محور ملک میں نظام مصطفی ﷺ کا نفاذ ہے اور اسی عظیم مقصد کے حصول کیلئے ایم ایم اے دوبارہ میدان میں آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست لندن یا امریکہ والی نہیں ،ہمارے لئے ماڈل حکومت مدینہ منورہ کی خلافت ہے ۔ہم خلافت کے نظام کی جدوجہد کررہے ہیں اور پوری قوم اسلامی انقلاب کیلئے ہمارے ساتھ ہے ۔

ہم ملک سے سود کا نظام ختم کرکے عشر و زکواة کا نظام لائیں گے تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کے نظام کو ختم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں 2221ارب روپے سود کی مد میں دینے کیلئے رکھے گئے ہیں ،ایک طرف ریونیو اکٹھا نہیں ہورہا جس کی سب سے بڑی وجہ کرپٹ حکمران ہیں جب تک عوام کو حکمرانوں پر اعتماد نہیں ہوگا وہ ٹیکس نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج جتنے لوگ ٹیکس دیتے ہیں زکواة کا نظام آتے ہی ان کی تعداد ڈبل ہوجائے گی اور وہ لوگ کسی مجبوری یا حکومتی ڈر سے نہیں بلکہ اللہ کو راضی کرنے کیلئے زکواة دیں گے اور ایم ایم اے پوری دیانتداری سے جمع ہونے والی زکواة کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم اور صحت کی سہولتیں مفت مہیا کریں گے اور نوجوانوں کو روز گارکی فراہمی تک بے روز گاری الائونس دیا جائے گا۔