سندھ ایکشن کمیٹی کا غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے خلاف احتجاج

گورنر سندھ سے مذاکرات ،تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر زین شاہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا

منگل مئی 19:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سندھ ایکشن کمیٹی نے صوبے میں مقیم بنگالی ، برمی،افغانیوں سمیت دیگرغیرملکیوں کوشناختی کارڈ جاری کرنے کے خلاف منگل کو کراچی پریس کلب سے گورنر ہاوس تک احتجاجی مارچ کیا ،،ریڈ زون میں داخلے پر مظاہرین اورپولیس میں تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا، گورنرسندھ کو احتجاجی یادداشت پیش کرنے کے بعد سید زین شاہ نے بھوک ہڑتالی کیمپ اوراحتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

قبل ازیں سندھ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین سید زین شاہ کی قیاد ت میں گورنرہاس کی جانب روانہ ہوئے تو پولیس کی بھاری نفری نے انہیں فوارہ چوک پرریڈزون میں داخلے سے روک دیا پولیس نے گورنرہاس کی جانب جانے والی سڑک پررکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس کی واٹرکینن منگوالی،اسی اثناء میں ڈپٹی کمشنرساؤتھ نے سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماں سے مذاکرات کیے اورایکشن کمیٹی کے 4 رہنماں کو احتجاجی یاد داشت پیش کرنے کے لیے گورنرہاس میں گورنرسے ملاقات کے لیے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

(جاری ہے)

سندھ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما سید زین شاہ کے ہمراہ امان اللہ شیخ ، آغاقمرمشوانی اورخواجہ نوید امین نے گورنرسندھ محمد زبیرسے گورنرہاس میں ملاقات کرکے اپنے مطالبات پرمبنی احتجاجی یادداشت پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا فرص ہے کہ وہ سندھ دھرتی کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ سندھ میں غیرقانونی آباد کاری سندھ کی ڈیموگرافی کے لئیے سنگین خطرہ ہے ،،سندھ میں مقیم غیر ملکیوں جس میں افغانی، برمی اور بنگالیوں کو پاکستانی شہریت دینا غیر قانونی عمل ہے۔

کراچی بدامنی کیس2012 میں سپریم کورٹ کا واضع فیصلہ ہے کہ غیر ملکیوں خاص طور پر افغانی، برمی اور بنگالیوں کو خاص کیمپوں تک محدود رکھا جائے غیرملکیوں کو پاکستانی شہریت دینا نہ صرف سیٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی توہین ہے ۔ یاد داشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیرملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے میں ذاتی دلچسپی پرچیئرمین نادرا کوبرطرف کیا جائے اور سندھ حکومت وفاقی حکومت سے مطالبہ کرے کہ غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کر کے سیٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی براہ راست خلاف ورزی ہو رہی ہے جس کے ذمہ دار نادرا چئیرمین عثمان مبین، وزیر داخلہ احسن اقبال ہیں۔ گورنرسندھ محمد زبیرنے سندھ ایکشن کمیٹی کے وفد کویقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے مطالبات وفاق تک پہنچائیں گیا وران کے تحفظات دورکیے جائیں گے اس موقع پرسید زین شاہ کا کہنا تھا کہ غیرملکیوں کی بطورغیرملکی رجسٹریشن کی بجائے انہیں شہریت دینے میں پیپلزپارٹی اوروفاقی حکومت دونوں برابرکی شریک ہیں ۔ بعدازاں سید زین شاہ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔