الیکشن کمیشن نے 2018 کے انتخابات میں غریب اور عوامی امیدوار کا راستہ روکنے کیلئے پیشگی دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ہے،جمعیت علمائے اسلام

قومی اسمبلی کیلئے فیس 4ہزار سے 30ہزار اور صوبائی اسمبلی کی 2ہزار سے 20ہزار مقرر کرنا جاگیردار اور سرمایہ دار کو قبضہ دینے کے مترادف ہے،قاری محمدعثمان

اتوار مئی 19:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) جمعیت علما اسلام کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2018 کے انتخابات میں غریب اور عوامی امیدوار کا راستہ روکنے کیلئے پیشگی دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ہے ۔۔قومی اسمبلی کیلئے فیس 4 ہزار سے 30 ہزار اور صوبائی اسمبلی کی 2 ہزار سے 20 ہزار مقرر کرنا جاگیردار اور سرمایہ دار کو قبضہ دینے کے مترادف ہے ۔

دولت اور غربت کا مقابلہ ناممکن تھا ،،الیکشن کمیشن نے غریب سے جینے کا حق چھین کر غریب پر ایوانوں کے راستے بند کردئے۔ کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ نے بھی ماہ مبارک میں شہریوں کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ وہ اپنے دفتر میں مختلف وفود سے گفتگو کررہے تھے ۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ 2018 کی دھاندلی کے مقابلے میں 2013 کی دھاندلی کو لوگ بھول جائیں گے۔

(جاری ہے)

اس وقت کے الیکشن کمشنر اور آج کے الیکشن کمشنر کے درمیان فرق تو 5 سال کا ہے مگر 2018 کے الیکشن میں دولت کا وہ بے دریغ استعمال ہو گا کہ پاکستانی قوم پچھلی10 الیکشنزبھول جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے منظر سے غائب ہوجائیں گے۔ 20اور30ہزار کی صرف فیس جمع کر نے والے سرمایہ دار ہزاروں میں سرعام ووٹ خرید یں گے ۔اس لئے کہ اسکی پشت پر الیکشن کمیشن کی پانی کی طرح پیسہ بہادینے کی تھپکی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر الیکشن کمیشن قومی و صوبائی اسمبلیوں کی فیس اور اخراجات کی شرح کم سے کم مقرر کرکے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جاتے تاکہ ایماندار اور صادق وامین افراد کامیابی کے بعد ملک کوصالح قیادت فراہم کرتے ۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ یہ حربے متحدہ مجلس عمل کا راستہ روکنے کیلئے کئے جارہے ہیں مگر ان شا اللہ پاکستان کے غیور مسلمان 2018 میں دینی قیادت کو ووٹ دیکر متحدہ مجلس عمل کو کامیاب بنائیں گے۔ قاری محمد عثمان نے اس شدید گرمی میں روزہ داروں پر پانی وبجلی کے بحران مسلط کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ اپنا قبلہ درست کرکے شہریوں کی بددعائیں لینا بند کریں اور پانی وبجلی کی سپلائی کویقینی بنائیں۔ انہوں نے سندھ حکومت اور رفاہی اداروں پر زور دیا کہ ماہ مبارک میں کراچی میں جاری شدید گرمی کی بڑھتی لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیٹ اسٹروک کیمپس کا قیام یقینی بنایا جائے۔