مقبوضہ کشمیر، دختران ملت کی پارٹی رہنمائوں کی دوبارہ گرفتاری کی شدیدمذمت

آسیہ اندرابی اور دختران ملت کی دیگر رہنمائوںکی گرفتاریاں قابل مذمت ،کٹھ پتلی انتظامیہ کی بوکھلاہٹ ہے، ظفر اکبربٹ

پیر مئی 17:03

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں دختران ملت نے اپنی پاٹی چیئرپرسن آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی رہائی کے فوراً بعد دوبارہ گرفتای کی شدید مذمت کی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق دختران ملت کی ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ ان رہنمائوں کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا لیکن انہیںصورہ پولیس سٹیشن لے جایاگیا جہاںسے ان کو راجباغ پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا۔

ترجمان نے کہاکہ ان کی نظربندی غیر قانونی ہے اور تازہ نظربندی کے حوالے پولیس نے ان کے اہلخانہ یا ان کی جماعت کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل نظربندی اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی سے پارٹی چیئر پرسن کی صحت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیںکیونکہ وہ پہلے ہی کئی عارضوں میں مبتلا تھیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے عوام سے آسیہ اندرابی کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی ہے جن کی صحت ہرگزرتے دن کے ساتھ بگڑتی جارہی ہے۔ ادھر حریت رہنماء اور جموںوکشمیرسالویشن موومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبربٹ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں آسیہ اندرابی اور دختران ملت کی دیگر رہنمائوںکی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کٹھ پتلی انتظامیہ کی بوکھلاہٹ قراردیا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ ضمانت پر رہای کے عدالتی راحکامات کے بعد حریت رہنمائوں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کر کے انہیں گرفتار کر لینا کٹھ پتلی انتظامیہ کا رو زکا معمول بن گیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ آسیہ اندرابی کو عدالتی احکامات کے بعد رہا کرنے کی بجائے انتظامیہ نے انہیں دوبارہ گرفتارکرلیا ہے جس سے اسکی بوکھلاہٹ واضح ہوتی ہے ۔

متعلقہ عنوان :