سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 127 میں سے 55 سوالات کے جواب ریکارڈ کرادیئے، مزید سماعت (کل )تک ملتوی کر دی

پیر مئی 20:22

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 127 میں سے 55 سوالات کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ممبر قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت میں پیش ہوئے ۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 127 میں سے 55 سوالات کے جواب ریکارڈ کرادیئے جبکہ عدالت نے مزید سماعت (آج )منگل تک ملتوی کر دی۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نے تقریباً 4 گھنٹے تک اپنا بیان قلمبند کرایا اور وہ آج بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پہلے سوال پر اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق فیصلے اور جے آئی ٹی کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کے لکھے گئے باہمی قانونی معاونت (ایم ایل ایز) کی بنیاد پر فیصلہ نہ دیا جائے۔

محمد نواز شریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میری عمر 68 سال ہے، میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان رہ چکا ہوں۔محمد نوازشریف نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی لیکن مجھے جے آئی ٹی کے ممبران پر اعتراض تھا اور یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا جب کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے جس کے ممبران میں بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے بھانجے ہیں جو (ن) لیگ کی حکومت کے خلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ بلال رسول کی اہلیہ تحریک انصاف کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔ سابق وزیراعظم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے اپنے کزن کے ذریعے تحقیقات کرائیں جب کہ تحقیقات میں ان کی جانبداری عیاں ہے۔

محمد نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز بھی جانبدار ہیں جو سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں جب کہ وہ سابق صدر پرویز مشرف دور میں میرے اور میری فیملی کے خلاف نیب ریفرنس نمبر 5 کی تحقیقات میں شامل رہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ایک اور رکن عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے جنہیں جے آئی ٹی میں شامل کر دیا گیا۔

سابق وزیراعظم نے ایک اور اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایم آئی اور آئی ایس آئی افسران کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا غیر مناسب تھا، موجودہ سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑے۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی مجھ سے رقابت 1999 سے بھی پہلے کی ہے جنہوں نے جے آئی ٹی رکن عامر عزیز سے حدیبیہ پیپر ریفرنس میں ہمارے خلاف تحقیقات کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف علاج کے بہانے بیرون ملک گئے اور اس وقت خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، ان کے خلاف سنگین غداری کیس کے بعد تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤ میں اضافہ ہوا اور میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے جب کہ جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے، انہیں آؤٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ بھی سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے میرا شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوا، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جاسکے، سپریم کورٹ کی طرف سے ایسے اختیارات غیر مناسب اور غیر متعلقہ تھے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کی 10 والیم پر مشتمل رپورٹ خود ساختہ اور غیر متعلقہ تھی جو ناقابل قبول شہادت پر مبنی ہے، سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔

سابق وزیراعظم نے عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کی طرف سے لکھے گئے ایم ایل ایز عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اس لیے ان کی بنیاد پر فیصلہ نہ دیا جائے۔ محمد نواز شریف نے کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور اس موقع پر اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنا مناسب نہیں سمجھتا، میں معصوم ہوں، میرے خلاف کیس میں کوئی ثبوت نہیں۔

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق اپنے جواب میں کہا کہ مجھے پرویز مشرف کے دور آمریت میں جلا وطن کر دیا گیا اور زیادہ عرصہ باہر رہنے کے سبب حدیبیہ پیپر ملز کے طویل مدتی قرض کا علم نہیں۔ محمد نواز شریف نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے معاملات میرے مرحوم والد دیکھتے تھے جب کہ جے آئی ٹی میں طارق شفیع کے جمع کرائے گئے حلف نامے کا عینی شاہد نہیں ہوں۔

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش یکطرفہ تھی جس نے شاید مختلف محکموں سے مخصوص دستاویزات اکٹھی کیں، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لئے بنائی گئی تھی، ریفرنس کے لئے نہیں۔ محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا جانبدار تھے اور اٴْنہوں نے اپنے کزن اختر راجا کو سولیسٹر مقرر کیا جنہوں نے جھوٹی دستاویزات تیار کیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تجزیے کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کا نہیں کہا تھا، ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ جے آئی ٹی کے ریکارڈ کردہ بیان کا مخصوص حصہ والیم 2 میں ری پروڈیوس کیا جب کہ استغاثہ نے غیر مستند شواہد پیش کیے۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب کے پاس ریفرنس دائر کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا، جس نے جے آئی ٹی کی کاپی کے لیے درخواست کی اس پر سنجیدہ سوالات اٹھے اور اٴْسے شامل تفتیش یا گواہ نہیں بنایا گیا۔

محمد نواز شریف نے کہا کہ یہ تفتیش نہیں ہوئی کہ والیم 4 عدالت میں جمع ہونے کے بعد نئی دستاویزات اس میں کب اور کیسے شامل کیے گئے اور یہ شواہد نہیں ہیں کہ کیس کا ریکارڈ کب، کیسے اور کس نے اکٹھا کیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے نیب کے گواہ رابرٹ ریڈلے سے متعلق کہا کہ وہ انتہائی دلچسپ گواہ ثابت ہوا جس نے غیر ضروری جلد بازی میں رپورٹ تیار کی اور اس کی رپورٹ جانبدار، متعصب اور یک طرفہ تھی۔

محمد نواز شریف نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی تیاری کے لیے کیلبری فونٹ استعمال کیا گیا، رابرٹ ریڈلے کے مطابق یہ فونٹ 31 جنوری 2007 تک کمرشل نہ تھا جب کہ رابرٹ ریڈلے کی رائے تھی کہ اس سے پہلے کیلبری فونٹ کا استعمال نہیں ہوسکتا تھا۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ رابرٹ ریڈلے کی کیلبری فونٹ کے استعمال سے متعلق رائے بدنیتی پر مبنی تھی جس نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ 2005 میں کیلبری فونٹ دستیاب تھا اور اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ خود بھی ڈاؤن لوڈ کر کے اس فونٹ کو استعمال کر چکا ہے۔ عدالت نے مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی ۔