مقبوضہ کشمیر، انسانی حقوق کمیشن نے حول قتل عام کے بارے میں پولیس کی رپورٹ مسترد کردی

منگل مئی 13:30

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کمیشن نی 21مئی 1990ء کو سرینگر کے علاقے حول میں بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ہاتھوں قتل عام کے بارے میں پولیس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے 50 سے زائد افراد کا قتل عام کیاتھا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پولیس کے کریمنل انویسٹی گیش محکمے (سی آئی ڈی) نے اپنی رپورٹ میں کہاتھا کہ کچھ مسلح افراد نے سی آر پی ایف کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی جس کے جواب میں فورسز اہلکاروںنے اپنا دفاع کرتے ہوئے فائرنگ کی تھی۔

انسانی حقوق کمیشن کے تحقیقاتی شعبے نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ سی آرپی ایف کے کورٹ آف انکوئری نے اپنے 15اہلکاروں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے بلااشتعال 50 سے زائد افراد کا قتل کیا ہے تاہم ابھی تک عدالت میں کوئی چالان پیش نہیں کیاگیا اور نہ ہی ان اہلکاروں سے قتل عام کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

(جاری ہے)

ممتاز آزادی پسند رہنما مولوی محمد فاروق کو نامعلوم مسلح افراد نی21 مئی 1990ء کو سرینگر کے علاقے نگین میںان کی رہائشگاہ پر فائرنگ کرکے شہید کیاتھا۔

یہ خبر پھیلتے ہی لوگ ان کی میت کو میرواعظ منزل لے جانے کیلئے صورہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی طرف دوڑ پڑے۔ جلو س جب اسلامیہ کالج پہنچا تو سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے جلوس پر اندھا فائرنگ کرکے 72 افراد کو شہید اور متعدد دیگر کو زخمی کردیا تھا۔ سی آئی ڈی نے کمیشن میں پیش کی جانے والی اپنی رپورٹ میں قاتلوں کا سراغ نہ ملنے کا کہہ کر کیس بند کردیا ہے۔

سی آئی ڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں کرفیو نافذ تھااور اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے سی آرپی ایف پر فائرنگ کی اور سی آر پی ایف نے اپنے سیلف ڈیفنس میں جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 35 شہری موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ تاہم انسانی حقوق کمیشن کے تحقیقاتی شعبے نے اپنی رپورٹ میں اسلامیہ کالج کے علاقے میں تعینات سی آر پی ایف کی 69 بٹالین کو معصوم شہریوںکو بلاجواز قتل کرنے کا ذمہ دار قراردیا ہے۔ کمیشن نے 2014ء میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈہیومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسن انتو کی درخواست پرقتل عام کی تحقیقات شروع کی تھی۔