وزیراعلیٰ سندھ کی انتہائی نفرت انگیز حقارت اور تعصب پر مبنی تقریر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار

بدھ مئی 14:23

وزیراعلیٰ سندھ کی انتہائی نفرت انگیز حقارت اور تعصب پر مبنی تقریر کی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) ایم کیو ایم کے رہنما رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی انتہائی نفرت انگیز حقارت اور تعصب پر مبنی تقریر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں‘ جنوبی صوبہ کا بیج پیپلز پارٹی نے خود بویا اور آبیاری بھی پی پی نے نفرت کے پانی سے کی‘ سندھ حکومت نے 90 ارب روپے لاڑکانہ میں کہاں لگائے‘ کراچی کے 350 ارب میں سے صرف سات ارب روپیہ دیا گیا۔

بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان بنانے والوں اور ان کی اولاد یعنی مہاجروں کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کئے اس سے دل آزاری ہوئی۔ ہم ان کی نفرت انگیز تقریر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ان کے جملوں اور تقریر کو مسترد کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

بارہ زبانیں بولنے والے جو قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرکے پاکستان آئے اور 1942ء میں سندھ میں جی ایم سید نے پاکستان کے حق میں سندھ اسمبلی سے قرارداد منظور کی۔

پیپلز پارٹی کے جاگیرداروں کا ٹولہ جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی‘ ان وڈیروں نے مہاجروں کو دیوار سے لگا دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی صوبہ کے حوالے جو بیج نفرت کا بویا جارہا ہے اس نفرت کے پانی سے اس درخت کی آبپاری کی جارہی ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ مردم شماری میں ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی۔ شہری آبادی کو دیہی آبادی کے برابر ظاہر کیا گیا اور اس طرح سینٹ کے انتخابات میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ایسے واقعات کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی 60 فیصد جبکہ لاڑکانہ کی آبادی 40 فیصد ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ لاڑکانہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے 90 ارب روپے رکھے گئے وہ کہاں خرچ ہوئے جبکہ کراچی کے لئے 350 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے رکھے گئے جن میں سے صرف سات ارب روپے سے مختلف شاہراہوں کو بنایا گیا ۔ ایم کیو ایم کے کارکنان کو ابھی تک حوصلے اور امن کی تلقین کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کا بیج بو رہی ہے۔ ہم نے جس دن جنوبی صوبہ کا مطالبہ کردیا تو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کی ڈاکٹر فوزیہ حمید‘ وسیم احمد‘ اقبال محمد علی‘ شیخ صلاح الدین سمیت دیگر اراکین قومی اسمبلی موجود تھے۔