فاٹا بل پاس کرنا بڑا قدم ہے،مبارکبادپیش کرتاہوں،عمران خان

فاٹا قوانین پرنظرثانی کیلئے کمیٹی بنائی جائے،فاٹا کوصوبہ بنانے کا آئیڈیا درست نہیں تھا،پارلیمنٹ میں کافی تلخی رہی،دھاندلی کیخلاف دھرنادینا پڑا، ہم ایمپائر صرف اللہ کو مانتے ہیں،میرا ضمیر صاف ہے کہ ہم نے لوگوں کی بات کی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 16:19

فاٹا بل پاس کرنا بڑا قدم ہے،مبارکبادپیش کرتاہوں،عمران خان
اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔24 مئی 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فاٹا کیلئے بل پاس کرنا بہت بڑا قدم ہے،مبارکبادپیش کرتاہوں،،فاٹا قوانین پرنظرثانی کیلئے کمیٹی بنائی جائے،،فاٹا کوصوبہ بنانے کا آئیڈیا درست نہیں تھا،،پارلیمنٹ میں کافی تلخی رہی،دھاندلی کیخلاف دھرنادینا پڑا، ہم ایمپائر صرف اللہ کو مانتے ہیں،،میرا ضمیر صاف ہے کہ ہم نے لوگوں کی بات کی ہے۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں فاٹا کیلئے آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ فاٹا کیلئے بل پاس کرنا بہت بڑا قدم ہے۔مبارکباد پیش کرتا ہوں۔قبائلی علاقوں کے نقصانات کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے ۔ اب یہ پاکستان کا حصہ بھی بن جائیں گے اور آہستہ آہستہ ان پربھی قانون کا نفاذ ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ جب دیر اور سوات پاکستان کا حصہ بنے تھے اور وہاں کیلئے قوانین بناکرجلدی نافذ کردیے تھے ۔

تووہاں پرقتل وغارت گری کم ہوگیا۔قبائلی علاقوں میں جب قانون نافذ کرنا ہے توہمیں بڑا سوچ سمجھ کریہ سب کرنا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس ابھی کوئی سسٹم نہیں ہے۔دوسرا فاٹا والوں کا پرانا بلدیاتی سسٹم ہے یعنی جرگہ ہے وہاں پرجو اپے فیصلے کرتا ہے۔ ہمیں ان کوبھی بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم فعال کیا اور الیکشن جلد کروائے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں پرانا سسٹم نہیں چل رہا۔ پولیٹیکل سسٹم میں کرپشن کی انتہاء تھی۔ اسگلنگ تھی، کرپشن عام تھی۔ ہمیں شروع میں مشکلات پیش آئیں گی۔ کمیٹی بنائی جائے جوقوانین پرنظرثانی کرے۔انہوں نے کہاکہ صوبہ بنانے کا جو بھی آئیڈیا دے رہا اس کوسمجھنا چاہیے کہ یہ مطالبہ ٹھیک نہیں ہے۔۔عمران خان نے کہاکہ پارلیمنٹ میں کافی تلخی رہی ہے۔

میں نے اور میری پارٹی نے جوبھی اسٹینڈ لیا ہمارا کام عوامی مفادات کا تحفظ تھا۔ پہلا الیکشن کے اوپر ہمارا مئوقف تھا۔ جب 22جماعتیں کہہ رہی تھیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ جب ہم صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کررہے تھے تو اس میں کونسی غلط بات کی تھی؟ جب ہم سپریم کورٹ گئے، پارلیمنٹ میں گئے ، ایک سال تک جب ہمیں جواب نہیں ملاتوہم دھرنا دیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم ایمپائر صرف اللہ کو مانتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ منی لانڈرنگ کا کیس جب آیا توکیا ہمارا حق نہیں تھا کہ ہم پوچھتے کہ پیسا کہاں گیا؟ میرا ضمیر صاف ہے کہ ہم نے لوگوں کی بات کی ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ جو لوگ منی لانڈرنگ کو دفاع کرتے تھے ان کا ضمیر ٹھیک تھا؟انہوں نے کہاکہ ایک ممبر نے مجھے یہاں کہا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے لیکن آج وہ ممبر یہاں موجود نہیں ہے۔ہمارا حق تھا کہ جب ہم سمجھے صاف شفاف الیکشن ہوں ، یا منی لانڈرنگ ہو تو اس کیخلاف ہم کھڑے ہوں۔ یہاں بیٹھے لوگوں کا کوئی فائدہ نہیں کہ یہ صرف کرپٹ لوگوں کا دفاع کریں۔واضح رہے قومی اسمبلی میں فاٹا کیلئے 31آئینی ترمیم کی منظوری دے گئی ہے۔ اسمبلی میں فاٹا کے حق میں 229ارکان نے ووٹ دیا۔