انتخابات ضرور ہوں گے، ملک، جمہوریت، پاکستان کے عالمی وقار کیلئے الیکشن کا انعقاد ضروری ہے،عرفان صدیقی

عوام کی رائے پر کسی نے اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کی تو ماضی کی طرح اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ،جس طرح الیکشن کا انعقاد ملک کیلئے نہایت ضروری ہے ویسے ہی الیکشن کا اعتبار، وقار اور ساکھ بھی ایک لازمی تقاضا ہے ،عام انتخابات سے پہلے ہم بہت سی ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں، جو نہیں ہونی چاہئیںملک کے لئے وہی الیکشن اچھے ہوں گے مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی کی میڈیا سے گفتگو

جمعرات مئی 19:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہاہے کہ 2018کے عام انتخابات ضرور منعقد ہوں گے، ملک، جمہوریت اور عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کے لئے انتخابات کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ انتخابات میں عوام کی رائے پر کسی نے اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کی تو ماضی کی طرح ملک کے لئے اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

وہ مری ایکسپریس وے پر واقع زیابیطس مرکز میں جدیدترین مشینری سے آراستہ لیبارٹری کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگوکررہے تھے۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ ماضی میں حکومت کی مدت کی تکمیل اور سینٹ کے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بھی بہت شکوک وشبہات پھیلائے جاتے رہے لیکن حکومت نے مدت پوری کی اور سینٹ کے انتخابات بھی ہوئے۔

(جاری ہے)

2018کے انتخابات کا انعقاد بھی ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ جس طرح الیکشن کا انعقاد ملک کے لئے نہایت ضروری ہے ویسے ہی الیکشن کا اعتبار، وقار اور ساکھ بھی ایک لازمی تقاضا ہے۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ عمومی طورپر یہ کم ہی دیکھنے میںآیا ہے کہ انتخاب کے دن کسی کا دبا یا کوئی انجینئرنگ کسی کے کام آتی ہو۔لیکن 2018کے عام انتخابات سے پہلے ہم بہت سی ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں جو نہیں ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہاکہ کسی خاص جماعت یا اس کی قیادت کو نشانہ بنالینا۔ ان کے لئے مشکلات پیدا کردینا یا انتخابی مہم چلانا دشوار بنادینا۔ کسی کو گولی ماردینا۔ میڈیا پر یک طرفہ بہا ہوجانا، یہ اچھی چیزیں نہیں۔ مشیر وزیراعظم نے کہاکہ میرے خیال میں ملک کے لئے وہی الیکشن اچھے ہوں گے جس کے ذریعے عوام کی حقیقی رائے سامنے آنے دی جائے۔ عوام کی رائے پر اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کے نتائج ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں جو ملک کے لئے اچھے نہیں ہوں گے۔

انہوں نے زیابیطس مرکز میں علاج معالجے اور جدیدترین مشینری وسہولیات کی فراہمی کو سراہتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں یہ موذی مرض بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے جو الارمنگ ہے۔ ا سکی تشخیص اور علاج کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ ادارہ بن جانا نہایت قابل تحسین ہے۔ اس طرح کے خیراتی اداروں کا معاشرے بالخصوص مخیر حضرات کو دل کھول کر ساتھ دینا چاہئے۔ نادار مریضوں کے علاج کے لئے اس طرح کے ادارے غنیمت ہیں جو حکومتی مدد کے بغیر عوام کی خدمت کے لئے میدان میں آئے ہیں۔

انہوں نے زیابیطس مرکز کے ڈاکٹروں اور عملہ کے جذبہ اور خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے زیابیطس مرکز کے چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ڈاکٹر اسجد حمید، ڈائریکٹر طاہر عباسی، چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید حمید اور ڈائریکٹر محمد عمر کمال کی خدمات کو سراہا۔ قبل ازیں مشیر وزیراعظم نے زیابیطس مرکز کے مختلف شعبہ جات دیکھے اور وہاں فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ لیا۔