بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظر بند کشمیریوں کا جرائم پیشہ قیدیوں سے دور الگ سیل میں رکھنے کا مطالبہ

جمعہ مئی 18:21

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظر بند کشمیریوں نے خود کو جرائم پیشہ قیدیوں سے دورایک علیحدہ سیل میں رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی تحقیقاتی اداروں ’’این آئی اے ‘‘ اور انفورسمنٹ دائر یکٹوریٹ ’ای ڈی ‘نے حریت رہنمائو ں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، نعیم احمد خان، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار ، ایاز محمد اکبر، شاہدالاسلام اور کشمیری تاجر ظہور وٹالی سمیت کئی بے گناہ کشمیریوں کو کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے تہاڑ جیل میں نظر بند کر رکھا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کشمیری نظر بندوں نے جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک خطہ لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ چونکہ انہیں سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے لہذ ا انہیں ایک علیحدہ سیل میں رکھا جائے۔

(جاری ہے)

حریت رہنمائوں شبیر احمد شاہ او ر الطاف احمد کے دستخطوں پر مشتمل اس خطہ کی ایک کاپی نئی دلی کی عدالت کو بھی بھیجی گئی ہے۔ خطہ میں مزید لکھا گیا کہ تہاڑ جیل میں جو کشمیری نظر بند موجو د ہیں انکی عمریں چالیس سے ساٹھ برس کے درمیان ہیں اور وہ ذیابیطس اور بلند فشار خون سمیت کئی عارضوں میں مبتلا ہیں۔

خط میں مزید لکھا ہے کہ کشمیری نظر بند اپنی تہذیب و تمدن کے لحاظ سے جیل میں موجود دیگر قیدیوں سے مختلف ہیں اور وہ مطالعے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں جبکہ ان کا برتائو بھی اچھا ہے لہذ انہیں ایک الگ سیل میں رکھا جائے۔

متعلقہ عنوان :