پاکستان اور بھارت سنجیدہ اقدامات اٹھائیں تو مسئلہ کشمیر ایک ہفتے میں حل ہو سکتا ہے،غلام احمد بلور

مریم نواز کو کٹہرے میں کھڑا کرنا غلط روایت ہے ، اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، نگران وزیر اعظم کے معاملے پر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر لچک نہیں دکھا رہے ، معاملہ لٹک گیا ہے،معاملہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا تو پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کی بے توقیری ہوگی،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

جمعہ مئی 20:19

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں تو مسئلہ کشمیر ایک ہفتے میں حل ہو سکتا ہے،،مریم نواز کو کٹہرے میں کھڑا کرنا غلط روایت ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، نگران وزیر اعظم کے معاملے پر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر لچک نہیں دکھا رہے جس کے باعث معاملہ لٹک گیا ہے،یہ معاملہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا تو یہ پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کی بے توقیری ہوگی۔

وہ جمعہ کا پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہاگر مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے جاتے تو آج یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ 70سالوں سے حکمرانوں کی غلطیوں کے باعث کشمیر کے عوام تکلیف کی ذندگی گزار رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اگر پاکستان اور بھارت دونوں جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں تو مسئلہ کشمیر ایک ہفتے میں حل ہو سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر معانی خیز مذاکرات شروع کریں اور دونوں جانب سے 3,3تجاویز پیش کی جائیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔۔مریم نواز کو کٹہرے میں کھڑا کرنا غلط روایت ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ پہلے بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا جس کا نتیجہ ہم سب نے دیکھا۔ نگران وزیر اعظم کے معاملے پر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر لچک نہیں دکھا رہے جس کے باعث معاملہ لٹک گیا ہے۔

نگران وزیر اعظم بنانے کی قانون اس پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا اس لیے اس قانون کو عزت دینی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ با عزت بنے۔ نگران وزیر اعظم کا معاملہ ہر حال میں عوامی نمائندوں کو ہی حل کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا تو یہ پارلیمنٹ کی بے توقیری ہوگی