فاروق ستار کو افطار کی دعوت دی تھی،ثبوت موجود ہیں،خالدمقبول

اتوار جون 21:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستارکی گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ بہادرآباد کی دعوت افطار میں عدم شرکت اور انہیں دعوت افطار کی دعوت نہ ملنے پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے اورگزشتہ شب گلستان جوہر کے ایک بینکویٹ میں ایم کیو ایم کے شہید مرکزی رہنما خالد بن ولید کے چشتی برادران کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنرمیں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستاراور متحدہ قومی موومنٹ بہادرآبادکے کنوینرخالدمقبول صدیقی، عامر خان، فیصل سبزواری، میئر کراچی وسیم اختر، جاوید حنیف، پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد اور مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات شریک تھیں۔

دعوت افطار میں متحدہ قومی موومنٹ کے تمام رہنما مہمانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

(جاری ہے)

میڈیا سے گفتگو میں متحدہ قومی موومنٹ بہادرآبادکے کنوینرخالدمقبول صدیقی کا ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے افطار پارٹی کی دعوت نہ ملنے کے بیان پر کہا کہ ہم نے فاروق بھائی کو دعوت دی تھی جس کا ثبوت فاروق بھائی کی جانب سے ہمارے دیگر ساتھیوں کو کئے جانے والے فون ہیں جبکہ فیصل سبزواری نے کہا کہ اگر فاروق بھائی کہتے ہیں کہ انہیں دعوت نہیں ملی تووہ فاروق بھائی ہیں ٹھیک ہی کہتے ہونگے مگر وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں میں جانتا ہوں لیکن میں بتاؤں گا نہیں۔

افطار ڈنر میں خالدمقبول صدیقی، عامر خان اوفیصل سبزواری کے جانے کے فوراً بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی آمد ہوئی۔ میزبان سلطان چشتی، عامر چشتی، فرحان چشتی، ایاز چشتی اورناصر چشتی نے انہیں ہیڈ ٹیبل پر بیٹھایا جہاں پہلے سے میئرکراچی وسیم اختر بھی موجود تھے لیکن دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے بات چیت بھی نہیں کی بلکہ کھاناکھاتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی جانب نہیں دیکھا۔افطار ڈنر میں پوما پیٹرولیم کے سی ای او ،،ایل پی جی ڈسٹڑی بیوٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان ((سندھ زون)کے سینئروائس چیئرمین عمران فاروقی،مولانا آزاد جمیل اور دیگر بھی موجود تھے۔