ملک بھر میں پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا

کالا باغ ڈیم سے متعلق چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 10:59

ملک بھر میں پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04 جون 2018ء) : کالا باغ ڈیم اور پانی سے متعلق دیگر کیسز کی سماعت سپریم کورٹ میں مقرر ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ملک میں پانی کی قلت ہے۔ڈیموں سے متعلق تمام مقدمات آئندہ ہفتے سنیں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانی اور کالا باغ ڈیم سے متعلق تمام کیسز سپریم کورٹ کی رجسٹریوں میں سنیں گے، انہوں نے کہا کہ میں نے 32،32 سال پُرانے کیسز نکالے ہیں۔

پانی کی کمی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم خشک ہو جائے گا، کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، ہم نے اپنے بچوں کو پانی نہ دیا تو کیا دیا؟ لہٰذا تمام متعلقہ افراد تیار ہو جائیں۔ کیونکہ ہم پانی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر درخواست گزار نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے لیے انتخابات سے قبل ڈیمز کی تعمیر کا وعدہ لازمی قرار دیا جائے، انتخابات میں ووٹ کے ساتھ کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم کی پرچی بھی شامل کی جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کو کنفیوژ نہ کریں، پاکستان کی بقا پانی پرمنحصر ہے لہذا پانی کے مسئلے پر جو بھی ہو سکا کروں گا، 48 سال سے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا،جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ کسی پارٹی کی ترجیحات میں پانی کے مسئلے کاحل نہیں۔

۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ذہن نشین کر لیں آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے، اسلام آباد،،، پشاور اور کوئٹہ میں پانی سے متعلق تمام مقدمات سنیں گے۔ سپریم کورٹ کی اولین ترجیح پانی کے مسئلے کا حل ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے، کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں۔۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی کی قلت اور ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام مقدمات سنیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ واٹر بم کا معاملہ ہے، بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، پچھلے دنوں بھارت نے کشن گنگا ڈیم بنایا جس سے نیلم جہلم خشک ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں، تمام مقدمات ہفتے کو سپریم کورٹ رجسٹری کراچی،،، اتوار کو لاہور میں سنیں گے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔

پاکستان میں پانی کی کمی کا بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ایک طرف جہاں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہیں دوسری جانب بھارت نے آبی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے ڈیم بنا کر پاکستان کے دریاؤں کا پانی روک لیا ہے۔۔پاکستان میں بننے والی کوئی بھی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ تھی، یہی وجہ ہے کہ پانی کے مسئلے پر کسی نے توجہ نہ دی، المیہ یہ ہے کہ پاکستان پر حکومت کرنے والے حکمرانوں کی زیادہ توجہ ترقیاتی منصوبوں پر ہی مرکوز رہتی ہے لیکن کسی حکومت نے بھی پاکستان کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے وکئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ عالمی موحولیاتی تنظیموں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اسی باعث پاکستان میں پہلے سے قدرے کم بارشیں ہونے لگی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء تک پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے بھی تجاوز کر جائے گی اور اتنی آبادی کے لیے پاکستان میں موجود پانی ناکافی ہوگا۔

لہٰذا پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی مؤثر آبی پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں گرمی کے موسم کی شدت اور دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے اور پاکستان میں ڈیموں کی کمی کے باعث دریاؤں کا 90 فیصد پانی بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان نے اب تک جو ڈیم تعمیر کیے ، ان کی مدد سے صرف 10 فیصد پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، پانی کی یہ مقدار 22 کروڑآبادی رکھنے والے ملک کے لیے ناکافی ہے۔

اس صورتحال میں حکمران تو اب بھی خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے، تاہم اب عوام نے اس مسئلے کو حل کروانے کی ذمہ داری خود سنبھالی اور سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم کا آغاز کیا گیا۔ اس مہم کا نعرہ ہے کہ ""ڈیم بناؤ، پاکستان بچاؤ"۔ اس مہم میں شرکت کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کا مطالبہ ہے کہ نہ سڑکیں چاہئیں ، نہ میڑو بس اور نہ ہی اورنج لائن ٹرین، اگر پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو نئے ڈیم بنائیں جائیں۔ اگر ملک میں کالا باغ اور دیگر ڈیم تعمیر نہ کیے گئے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔