ْ اسلامی وخوشحال بلوچستان کے لیے اہل بلوچستان دینی قوتوں کا ساتھ دیں،مولاناعبدالحق ہاشمی

باربارآزمائے ہوئے کو آزمانا دانشمندی نہیں،بلوچستان کومعاشی آئنی حقوق جماعت اسلامی دے سکتی ہے،صوبائی امیر جماعت اسلامی

بدھ جون 22:56

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہا کہ اسلامی وخوشحال بلوچستان کے لیے اہل بلوچستان دینی قوتوں کا ساتھ دیں تاکہ نظام مصطفٰی کے قیام، آئین کی اسلامی شقوں و قومی آزادی کے تحفظ، اسلام کے نظام عدل، معاشی خوشحالی، زرعی ترقی، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار، فرقہ وارانہ تعصبات کا خاتمہ، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ مل سکیں ۔

بلوچستان کومعاشی آئنی حقوق جماعت اسلامی دے سکتی ہے ۔باربارآزمائے ہوئے کو آزمانا دانشمندی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک وبلوچستان میں پانی کی قلت ختم کرنے کیلئے بڑے ڈیم بنائے جائیں گے نارواں ظالمانہ ٹیکسوں کو ختم کرکے انصاف پر مبنی ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جائے گا بجلی گیس موبائل فون سے غیر ضروری ٹیکسوں کو ختم کر دیا جائے گا آٹا، گھی، چینی ، دالوں کی قیمتیں کم کی جائیں گی ماورائے قانون گرفتاریوں، چھاپوں اور اقدامات کو ختم کرتے ہوئے امن عامہ کے قیام میں عدلیہ کے حقیقی فعال کردار کو یقینی بنایا جائے گا جاگیردارانہ اور وڈیرا شاہی کو ختم کرتے ہوئے سر سبز شاداب پاکستان کے لیے زرعی ترقیاتی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا غیر طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کر کے مساوی نظام تعلیم کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا مفت علاج و تعلیم کی سہولیات دستیاب ہوں گی یوتھ لیڈر شپ کارڈ کا اجراء کیا جائے گا آئین میں موجود تمام اسلامی دفعات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا با اختیار مقننہ آزاد عدلیہ کرپشن کے خاتمے اور اختیارات کے نچلی سطح پر تقسیم کے لیے آئینی اصلاحات کی جائیں گی قوم نے اگر ایم ایم اے پر اعتماد کیا تو ہر شہری کے لیے تعلیم ، علاج اور روزگار کی یقینی فراہمی تمام غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ اور عام افراد کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں کا مناسب ترین تعین کیا جائے گا آزاد اور باوقار خارجہ پالیسی کی تشکیل برابری کی بنیاد پر تمام ممالک سے تعلقات اور عالمی اسلامی بلاک کی تشکیل کی کوشش کی جائے گی مسلم اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کاوشیں کی جائیں گی۔

(جاری ہے)

اتفاق رائے سے نئے ڈیموں کی تعمیر، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کار کا موثر نظام ، توانائی کے متبادل ذرائع پر عملدرآمد اور بھارتی آبی جارحیت کا موثر تدارک کیا جائے گا سی پیک کے منصوبوں میں مقامی آبادی کے روزگار کو ترجیح دی جائے گی بلوچستان کو سی پیک کے ذریعے ترقی دیکر دیگر صوبوں کے برابر لانے کی بھرپورکوشش کی جائیگی ۔