پی ٹی آئی نے نوجوانوں کی بجائے عمر رسیدہ اور مسلم لیگ سے وابستہ لوگوں کو ٹکٹ تھما دیے

نظریاتی اور نوجوان کارکن منہ تکتے رہ گئے،ٹکٹیں یافتہ امیدواروں میں 20سے زائد کھلاڑی 70سال سے ز ائدکے نکلے

ہفتہ جون 15:46

پی ٹی آئی نے نوجوانوں کی بجائے عمر رسیدہ اور مسلم لیگ سے وابستہ لوگوں ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) نوجوانوں کی نمائندگی کے دعویدار پاکستان تحریک انصاف نے نوجوانوں کی بجائے عمر رسیدہ اور مسلم لیگ سے وابستہ لوگوں کو ٹکٹ تھما دیے ، نظریاتی اور نوجوان کارکن منہ تکتے رہ گے تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ روز قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے اپنے بیشتر ٹکٹ ہولڈرز کے جن ناموں کا اعلان کیا ہے۔

ان میں بیشتر لوگ نوجوانوں کے بجائے عمررسیدہ اور دیرینہ پارٹی ورکرز کے بجائے نئے شامل ہونے والوں پر مشتمل ہیں۔آئندہ عام انتخابات کا میدان سجانے کے لیے پارٹی ٹکٹیں پانے والوں میں 20 سے زائد کھلاڑی ایسے ہیں جو میدان میں اترتے وقت 70 برس سے بھی زیادہ عمر رکھتے ہیں۔پیپلزپارٹی سے تحریک انصاف میں آنے والے غلام مصطفی کھر کی عمر 80 سال ہے۔

(جاری ہے)

جو مظفر گڑھ کے قومی حلقے این اے 181 سیپاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہوں گے دیگر امیدواروں میں سردار آصف علی دولہ 77 سال، گجرات سے محمد اختر حیات 70 برس، سیالکوٹ سے محمد عاشق 71 برس، نارووال سے نعمت علی جاوید 81 برس، گوجرانولہ سے ایس اے حمید 76 برس، فیصل آباد سے ظہرالدین 73، لاہور سے کرامت علی، راجن پور سے سردار محمد ظفرخان لغاری اور سردار نصراللہ خان دریشک کی عمریں 75 پچہتر برس ہیں۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 66 سالہ چوہدری محمد اشفاق، ننکانہ صاحب سے 71 سالہ اعجاز احمد شاہ، شیخوپورہ سے 64 سالہ محمد سعید ورک، سرگودھا سے 67 سالہ ظفر احمد قریشی، شیخوپورہ سے 82 سالہ راحت امان اللہ، قصور سے 77 سالہ سردار آصف علی دولہ، پاکپتن سے 70 سالہ میاں محمد امجد جوئیہ، خانیول سے 74 سالہ ملک غلام مرتضہ وہاڑی سے 69 سالہ اسحاق خان، رحیم یار خان سے 73 سالہ مخدوم سید احمد عالم کو بھی قومی اسمبلی کے لیے پارٹی ٹکٹ دیے گئے ہیں۔

70 سالہ میاں محمد رشید نارروال سے جب کہ 68 سالہ رائے نزیر احمد بھی تحریک انصاف کے امیدوار ہیں جو گزشتہ اسمبلی میں ن لیگ کے رکن رہے ہیں۔ گوجرانوالہ سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ پانے والے ڈاکٹر عمار حسین پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں۔ 60 سالہ امتیاز رانجھا کو منڈی بہاالدین سے ٹکٹ دیا گیا ہے جو ن لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی جب کہ پیپلزپارٹی کے سابق وفاقی وزیر 68 سالہ نذرگوندل کو بھی اسی ضلع سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا سے قلندر خان لوودھی 74 برس مردان سے امیر فرزند خان 74 برس کرک سے فرید خان طوفان 67 کرک ہی سے قاسم خان 64 پشاور سے پیر فدا محمد 62 نوشہرہ سے میاں جاسم 63 برس ایبٹ آباد سے مشتاق غنی 61 لوئردیر سے محمد اعظم خان 65 برس کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔48 سالہ فردوس عاشق اعوان اور 43 سالہ ندیم افضل چن پیپلزپارٹی کے اہم رہنماں میں شمار کیے جاتے رہے ہیں تاہم اس بار تحریک انصاف کا رنگ اوڑھے میدان میں اتر رہے ہیں۔

دو روز قبل تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کے ممکنہ بائیکاٹ کا اعلان کرنے والے 70 سالہ لیاقت جتوئی بھی سندھ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 234 سے تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ انہوں نے اپنے ضلع دادو سے اپنے متعدد رشتہ داروں کو پارٹی ٹکٹ دلائے ہیں۔ لیاقت جتوئی اور ان کے بیٹے اس سے قبل ق لیگ کا حصہ رہے ہیں۔68 برس کے شفقت محمود اور 67 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد بھی لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقوں کے لیے تحریک انصاف کے اعلان کردہ امیدواروں میں شامل ہیں۔

68 سالہ پرویز خٹک نوشہرہ 62 سالہ غلام سرور خان راولپنڈی 61 سالہ شیر اکبر بونیر 60 سالہ محمد بشیر لوئر دیر70 سالہ عثمان ترکئی، صوابی 63 سالہ خیال زمان ہنگو 77 سالہ حبیب اللہ خان ٹانک 67 سالہ طاہر صادق اٹک بھی تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔۔لاہور کے صوبائی حلقوں میں صرف تین نوجوانوں کو پارٹی ٹکٹ ملا، قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست پرنوجوان اپنے کپتان کا اعتماد حاصل نہ کرسکے۔

لاہور میں صوبائی اسمبلی کے لیے پی ٹی آئی کے سب سے عمررسیدہ امیدوار محمد یوسف اور میاں محمود الرشید ہیں جن کی عمریں 64 چونسٹھ برس ہیں۔ 50 سالہ خالد محمود بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لاہور سے الیکشن لڑیں گے۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق پنجاب اسمبلی کے لیے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی اوسط عمر ساڑھے 46 سال بنتی ہے۔