بٹگرام ،عام انتخابات میں تحریک انصاف نے میدان میں سب سے مضبوط پینل اتار دیا

ایم ایم اے نے بھی تحریک انصاف کے مقابلے میں مضبوط پینل بنانے کیلئے سر جوڑ لیئے

ہفتہ جون 20:23

بٹگرام (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) بٹگرام 2018انتخابات پاکستان تحریک انصاف نے میدان میں سب سے مضبوط پینل اتار دیا ،ایم ایم اے نے بھی تحریک انصاف کے مقابلے میں مضبوط پینل بنانے کیلئے سر جوڑ لیئے ،موجودہ صورت حال میں بٹگرام کی تینوں حلقوں پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے ضلع میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے،جمعہ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے جانب سے امیدواروں کے نام فائنل ہونے کے بعد ضلع بٹگرام سب سے پہلا اور مضبوط پینل اس وقت پاکستان تحریک انصاف کا بن گیا ہے جس میں ترند گروپ کے سابق ایم پی اے تاج محمد خان ترند حلقہ 29،پرنس نواز خان حلقہ 12 جبکہ زبیر خان آلائی حلقہ 28 سے امیدوار منتخب ہوئے ہیں، آزادانہ رائے کے مطابق ترند گروپ کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ووٹ بنک ہے اور بیاری گروپ کے پاس بھی ہزاروں کی تعداد میں ووٹ بنک ہے اہم بات کہ ہے کہ ترند خاندان کے درمیان اختلافات تھے اور بیاری خاندان کے درمیان بھی تاہم دونوں خاندانوں کے درمیان مفاہمت کے زریعے اختلافات ختم ہوچکے ہیں اور دونوں خاندانوں نے اتفاق رائے سے امیدواروں کا انتخاب بھی مکمل کرکے اپنے لیئے سیاسی مہم کا آغاز کردیا ہے، دوسری جانب ضلع بٹگرام میں ایم ایم اے کا ایک مضبوط پینل ہوگا مگر اس وقت ایم ایم اے میں شدید اختلافات ہیں زرائع کے مطابق ایم ایم اے کی قومی اسمبلی کی نشست کیلئے دو امیدواروں قاری محمد یوسف اور مولانا رشید احمد کے درمیان رسہ کشی جاری ہے جبکہ صوبائی حلقہ 29 پر بٹگرام گروپ کے خاندان کے درمیان شدید اختلافات ہیں جس میں ایک طرف محمد فیاض خان ایڈوکیٹ جبکہ دوسری جانب نواب زادہ ولی محمد خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں اگر بٹگرام گروپ کے خاندان کا آپس میں اتفاق ہوجاتا ہے اور متفقہ امیدوار سامنے لایا جاتا اور مولانا رشید احمد اور قاری یوسف کے درمیان اختلافات ختم کرکے دونوں میں سے کسی ایک امیدوار کو میدان میں لایا جاتا ہے اور آلائی حلقہ 28 سے پہلے ہی امیدوار یعنی شاہ حسین خان کا انتخاب ہوچکا ہے تو اس صورت میں ضلع بٹگرام میں دوسرا بڑا سیاسی پینل بن جائے گا اور اس صورت میں پی ٹی آئی اور ایم ایم اے کا کانٹے دار مقابلہ ہوگا،تیسری جانب اگر دیکھا جائے تو مولانا عطاء محمد دیشانی اور یوہ وینہ پولیٹیکل پارٹی کیدرمیان اتحاد ہوچکا ہے جس میں صوبائی حلقہ سے علامہ دیشانی جبکہ قومی اسمبلی سے یوہ وینہ کے سعید احمد ملکال امیدوار ہونگے جبکہ تحصیل آلائی سے انکے پینل کیلئے امیدوار کی تاحال کنفرمیشن نہیں ہوسکی ہے اس پینل میں اگر یوہ وینہ پولیٹیکل پارٹی غیر مشروط طور پر الیکشن سے دستبردار ہوکر اپنی جگہ سردار ملک جان کو لاتی ہے اور آلائی سے مولانا غلام اللہ کو اپنے پینل میں شامل کراتی ہے تو یقینا یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ یہ پینل ایم ایم اے اور پی ٹی آئی کے پینل کو ٹف ٹائم دے گا اور ان دونوں پینلوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا، بصورت دیگر سردار ملک جان کے بغیر یہ پینل اتنا مضبوط اور موثر نہیں ہو پائے گا،ادھر عوامی نیشنل پارٹی بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہے تاہم انکے سیاسی اتحاد کے حوالے سے تاحال کوئی خبر سامنے نہیں آئی بلکہ کہا یہ جارہا ہے کہ وہ تینوں سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارے گی اور الیکشن لڑے گی اس صورت میں قومی اسمبلی کی نشست پر عوامی نیشنل پارٹی خاطر خواہ ووٹ حاصل کرپائے گی جبکہ صوبائی نشست پر انکو اتنے زیادہ ووٹ نہیں مل سکے گے، آلائی حلقہ سے نعیم شاہین بھی آزاد حیثیت کیساتھ میدان میں آئے ہیں پہلے الیکشن میں نعیم شاہین نے جب حصہ لیا تو انھیں کم ووٹ ملے مگر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے بعد انکے ووٹرز میں اضافہ ہوا،زرائع کا کہنا ہے کہ نعیم شاہین کی آلائی کی سطح پر سردار ملک جان کیساتھ اتحاد کی بات چل رہی ہے اگر سردار ملک جان کی حمایت نعیم شاہین کو حاصل ہوجاتی ہے تو موصوف آلائی کی صوبائی حلقہ پر اپنے حریفوں کو ٹف ٹائم دینگے، جبکہ مذکورہ بالا سیاسی اتحاد اگر ممکن ہوگیا تو مولانا مفتی غلام اللہ بھی کانٹے دار مقابلے کی دوڑ میں شامل ہوسکتے ہیں، بٹگرام صوبائی حلقہ 28 سے پی ٹی آئی نظریاتی رہنماء سید عمل شاہ شیرازی بھی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے میدان میں اترے ہیں اور انھیں اپنے نظریاتی ورکروں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے،موصوف کی بھی سردار ملک جان کیساتھ اتحاد کی باتیں گردش کررہی ہیں تاہم اگر اتحاد نہ بھی ہوا تو تب بھی سید عمل شاہ شیرازی نظریاتی ورکروں کے خاطر خواہ ووٹ حاصل کرسکتے ہیں عمل شاہ کیمطابق انھوں نے چند عرصہ قبل ساڑھے پانچ ہزار پیڈ ممبران کی ممبر سازی کی ہے جو انکے پاس آن دی ریکارڈ بھی موجود ہے، آزادانہ تجزیے کے مطابق علاقہ دیشان سے اس وقت صوبائی اسمبلی کیلئے تین امیدوار میدان میں موجود ہیں جس میں سرفہرست علامہ عطاء محمد دیشانی،،اے این پی کے محمد ریاض خان اور سید عمل شاہ شیرازی شامل ہیں اگر یہ تینوں امیدوار الیکشن لڑتے ہیں تو یقینا آزاد ووٹ یہاں پر تقسیم ہوگا اور ان میں سے کوئی بھی امیدوار ایم ایم اے یا پی ٹی آئی کے مقابلے میں علاقہ دیشان سے خاطر خواہ ووٹ حاصل نہیں کرپائے گا اگر ان تینوں کے درمیان مفاہمت ہوجاتی ہے تو یقینا ان کا متفقہ امیدوار مذکورہ بالا دونوں سیاسی اتحادوں کے مقابلے میں اچھا ووٹ حاصل کرپائے گا