جڑواں شہروں میں الیکشن کی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ،بیٹھکیں سج گئیں

ہفتہ جون 20:37

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع ہونے کے ساتھ ہی جڑواں شہروں میں الیکشن کی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے الیکشن کے حوالے سے بیٹھکیں سج گئیں ہیں ہر طرف الیکشن ہی الیکشن ہونے کے باعث الیکشن کے حوالے سے جڑواں شہروں کے بازاروں ، محلوں ،گلیوں، دکانوںاور انتخابی دفاتروں میں ملاقاتوں کا سلسلہ سحری تک زور شوق کے ساتھ جاری ہے ٹکٹوں سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کا زورشوق دیکھ کر لگ رہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف2018 کے عام انتخابات میں کلین سویپ کریں گی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ دیئے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے پاکستان تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی جانب سے غلط ٹکٹ دیئے جانے کے باعث کارکنوں میں مایوسی اور بے چینی پھیل گئی جس کے باعث تحریک انصاف کلین بولڈ ہو گئی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کاالیکشن مہم میں بھی جانے سے انکاری ہوگئے ہیں جس کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن پہلے سے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی دونوں پاکستان کی سیاسی بڑی پارٹیاںٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے پاکستان پیپلز پارٹی پیچ پر آگئی جومیدان کے چارطرف شارٹیں کھیل رہی ہے تاہم پیپلزپارٹی ابھی تک کوئی لمباچھکا لگانے میں کامیاب نہیں ہوئی البتہ میدان کے چار طرف چوکے لگا رہی ہے اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی نے اپنے پرانے جیالوں کو بھی کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور بہت سے جیلوں نے کاعذات جمع کردیے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت راولپنڈی میں بڑی قوت بن کر سامنے آگئی ہے اور پاکستان مسلم لیگ ن کے یوسی چیئرمینوں کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا بھی انکشاف کیا گیا ہے اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے چیئرمینوں کا پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولت کا بہت جلد اعلان کیا جائیگاجبکہ دونوں پارٹیوں کے ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہونے کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف لمبا چھکا بلکہ دونوں پارٹیوں کو وائٹ واش کریںگی تاہم کاغذات نامزگی کی تاریخ سے پہلے پاکستان تحریک انصاف دونوں بڑی پارٹیوں کی وکٹیں اڑانے میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہے اب ددیکھنا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کم بیک کرتی ہے کہ نہیں تفصیلات کے مطابق انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی جڑواں شہروں میں امیدواروں کی الیکشن مہم میں تیزی آگئی تھی جبکہ عام انتخابات میں حصہ لینے خواہشمندامیدواروں نے الیکشن مہم کے لیے اپنے دفاتر بھی قائم کر لیے تھے جبکہ سیاسی جماعتوں کے تمام امیدواروں کی جانب سے افطار ڈنر اورحلقہ کے چیئرمینوں اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی زور پکڑ گیا ہے ایک سیٹ پر کئی امیدوار ہونے کی وجہ سے پارٹی ٹکٹوں کا فیصلہ بھی کرنا مشکل ہے ہر امیدوار ٹکٹ کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہا ہے الیکشن سے قبل جہاں سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے اندر بھی محاذ کھڑے ہو گئے ہیں ایک طرف تو سیاسی جماعتوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری طرف کامیابی کی صورت میں عہدوں کی تقسیم بھی ایک کٹھن مرحلہ ہے سیاسی مبصرین کے مطابق اس مرتبہ الیکشن2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے جیتنے کے مواقع زیادہ تھے جو کہ غلط ٹکٹ دینے کے باعث ختم ہو گئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مواقع زیادہ ہو گئے ہیں گزشتہ چند دنوں میںپاکستان تحریک انصاف نے شیخ رشید احمد ، شہر یارریاض ، عامرمحمود کیانی کو ٹکٹ دے کرعارف عباسی ، اعجاز خان جازی سمیت الیاس مہربان کو نظر انداز کر نے پر جڑواں شہریوں کے کارکنوں میں سخت مایوسی پھیل گئی جس کے باعث پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ان تینوں رہنمائوں کی وجہ سے پارٹی کارکنوں نے الیکشن مہم میں جانے سے انکار کردیاذرائع کے مطابق عارف عباسی نے شیخ رشید کے خلاف آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑے کا اعلان کردیا ہے اور عارف عباسی شیخ رشید کے خلاف الیکشن لڑے گئے جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کے نامزد امیدوار عامر کیانی کے پارٹی میں دھڑے بندی کے باعث انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر لیا تھا ان کے مد مقابل پارٹی امیدوار الیاس مہربان نے پارٹی ٹکٹ کی امید پیدا ہونے پر آزاد حیثیت میں الیکشن کمیشن میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے تھے جبکہ الیاس مہربان کے دھڑے نے پارٹی کی جانب سے عامر کیانی کو ٹکٹ ملنے کے امکانات پر مقامی سطح پر اور سوشل میڈیا پر عامر کیانی کے خلاف مہم بھی شروع کر دی تھی جس میں عامر کیانی کو ’’پیراشوٹر‘‘ قرار دیا جا رہا تھا الیاس مہربان کے دھڑے کا کہنا ہے کہ پارٹی ٹکٹ کے اصل حقدار پارٹی کے وہ مقامی لیڈر ہیں جو نچلی سطح سے پارٹی کے لیے کام کرتے ہوئے ابھر کر سامنے آئے ہیں اور پارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں جبکہ عمران خان کا عامر کیانی کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے راولپنڈی کینٹ کے علاقے سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا تو یہاں پر بھی ورکروں نے سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے باخبر اور مصدقہ ذرائع کی اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 272 ٹکٹوں کا فیصلہ کرنا ہے لیکن اس معاملے میں پی ٹی آئی کے پاس اٴْمیدواروں کا تناسب ٹکٹوں سے زیادہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی میں اندرونی محاذ شروع ہو گئے ہیںاور ٹکٹوں کی غلط تقسیم کے خدشے کے معاملے پر مبینہ اختلاف کی وجہ سے پارٹی چھوڑنے کی باتیں کی جارہی ہیں البتہ تاحال کسی کی جانب سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیاگیا ہے اسی طرح راولپنڈی کینٹ کے بعض امیدواروں کا بھی پارٹی قیادت سے ٹکٹ کے معاملے پر اختلاف ہونے کی اطلاعات ہیںپاکستان تحریک انصاف ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر اٴْمیدوار کو ٹکٹ میرٹ کی بنیاد پر دیا جائے گالیکن کچھ معاملات ٹکٹ کے لین دین سے بھی آگے بڑھ گئے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے نتیجے میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور صوبائی کابینہ میں شمولیت کیلئے کئی اٴْمیدواروں نے پہلے سے ہی ٹکٹکی باندھ ہوئی ہے