چترال کی ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر جماعت اسلامی اور ایم ا یم اے امیدواروں کے ناموں کا اعلان

ہفتہ جون 21:23

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) امیر جماعت اسلامی اور سینئر نائب صدر متحدہ مجلس عمل خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے چترال کی ضلعی مجلس شوریٰ کے طویل اجلاس کے بعد چترال کی ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا۔ سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی این اے ون اور پی کے ون چترال سے جماعت اسلامی کے امیدوار ہوں گے، جبکہ جے آئی یوتھ ضلع چترال کے صدر وجیہ الدین پی کے ون پر متبادل امیدوار ہوں گے۔

جماعت اسلامی چترال کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ چترال میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ہماری ترجیح اول صوبائی اسمبلی کی نشست ہوگی تاہم مشاورت کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے حصے میں جو بھی نشست آئے گی اس پر جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا عبدالاکبر چترالی ہوں گے۔

(جاری ہے)

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل نے قوم کو انقلابی منشور دیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل میں کوئی آفشور کمپنیوں اور اکاؤنٹس والے نہیں ہیں۔ باقی جماعتوں پر کرپشن کے کنگ قابض ہیں۔ ایم ایم اے نے دستور کی اسلامی شناخت کی حفاظت کو اپنے منشور کا پہلا نقطہ بنایا ہے۔ آئین میں موجود تمام اسلامی دفعات کا مکمل تحفظ ،بااختیار مقننہ ، آزاد عدلیہ، کرپشن کا خاتمہ اور اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کے لئے آئینی اصلاحات لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے اپنے منشور میں واضح کیا ہے کہ تعلیم،، روزگار اور علاج کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں، ایم ایم اے اپنی حکومت میں ہر شہری کے لئے تعلیم،، علاج ، روزگار کی یقینی فراہمی، تمام غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ کرے گی اور عام افراد کے لئے آسان ترین بنیادی ضروریات زندگی کی کم ترین قیمت میں فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

ہم آزاد اور باوقار خارجہ پالیسی تشکیل دیں گے ، برابری کی بنیاد پر تمام ممالک سے تعلقات قائم کریں گے اور عالمی اسلامی بلاک کی تشکیل سمیت مسلم اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کاوشیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے اتفاق رائے سے نئے ڈیموں کی تعمیر، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کار کے مؤثر نظام ، توانائی کے متبادل ذرائع پر عملدرآمد اور بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے مؤثر تدارک کے لئے اقدامات کرے گی۔

سی پیک منصوبوں میں مقامی آبادی کے روزگار اور انفراسٹکچر کو ترجیح دی جائی گی۔ چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا جائے گا، کسانوں اور مزدوروں کے لئے سود مند معاشی پالیسی کا اجراء اور صنعتوں کو بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات قومی تاریخ کے انتہائی نازک مرحلے میں ہورہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہمارے پاس غلطی کی گنجائش نہیں۔ الیکشن کمیشن آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔

انتخابات کے لئے قوانین تو بنتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتے ۔سیاست میں پیسے کے عمل دخل سے سیاست کو شدید خطرہ درپیش ہے اور بیلٹ باکس کا تقدس پامال ہورہا ہے۔پیسے کی بنیاد پر سیاست کو اغواء اور چند خاندانوں کے گھروں کی لونڈی بنائی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن سیاست اور انتخابات میں پیسے کے عمل دخل کو روکے اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے اخراجات کی جو حد رکھی گئی ہے اس کو اس انداز سے نافذ کیا جائے کہ جو نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے اوپر کسی کو بھی اثر انداز ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ ووٹ اور بیلٹ باکس کا تقدس بحال رکھنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔