محمود مسافر کے احتجاج و بھوک ہڑتال کے 29 روز

محمود مسافر نے عیدالفطر اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہراحتجاجی کیمپ میں ہی منانے کا اعلان کر دیا

اتوار جون 15:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) محمود مسافر کے احتجاج و بھوک ہڑتال کاآج 29 روز ، محمود مسافر نے عیدالفطر اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہراپنے احتجاجی کیمپ میں ہی منانے کا اعلان کر دیا ، میرے مطالبات پر آزاد کشمیر وپاکستان حکومت نے ایک نظر تک نہیں ڈالی ، آج مجھے 29 روز بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہو گئے ہیں مگر آج تک کسی بھی آزاد کشمیر و پاکستان کی ذمہ دار شخصیت نے میری بات تک نہ سنی ، مجھے دکھ اس بات کا ہے خود کو مسلمان کہلوانے والوں کو میرا رمضان المبارک میں بھی بھوک ہڑتال پر نوٹس لینے کی زحمت نہ کی جاسکی، ان خیالات کا اظہار محمود مسافر نے اپنے ہڑتالی کیمپ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وہ عیدالفطر نیشنل پریس کلب کے باہر اپنے احتجاجی کیمپ میں منائوں گا اور ضرورت پڑی تو عیدالقربان بھی ادھرہی منائوں گا،انہوں نے کہا کیسا اچھا موقع ہو گا جب لوگ نماز پڑھ کر محمود مسافر کے احتجاجی کیمپ کو دیکھ کر ضمیر فروش حکمرانوں کو لعنتیں بھیجیں گے ، انہوں نے شہریوں سے مطالبہ کیا ہیکہ کہ اپنے بچوں کو ان کے احتجاجی کیمپ کادورہ ضرور کروائیں جہاں وہ مستقبل کے نوجوان بچوں کو مملکت پاکستان اورآزاد کشمیر کے قانون کے اختیارات پر لیکچر بھی دیں گے، محمود مسافر نے کہا مجھے یقین ہے کہ ایک بار نوجوان کے مطالبات کا جائزہ لے لیں تو انھیں اپنے حکمرانوں کے اختیارات کے بارے میں سب معلوم ہو جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مذید کہا کہ بے حسی کی اس سے اعلیٰ کوئی مثال میں نے آج تک نہیں دیکھی ،انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان ہر روز ایکشن لیتے نظر آتے ہیں کیا انھیں میر احتجاجی کیمپ نظر نہیں آیا یا میرے مطالبات ان کے اختیارات سے حاوی ہیں ، مطالبات پر مشتمل نکاتی ایجنڈا کا مطالعہ کر لیں تو انھیں خود معلوم ہو جائے گا کہ ان مطالبات میں محمود مسافر کا ذاتی کون سا مطالبہ ہے ۔