چترال سے آئندہ الیکشن میں قومی اسمبلی کیلئے 18 اور صوبائی اسمبلی کیلئے 27 امیدوار قسمت آزمائی کریں گے

منگل جون 18:42

چترال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) 25جولائی کو ہونیوالے انتخابات میں چترال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون چترال کیلئے 18 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے حلقہ پی کے ون کیلئے 27 امیدوار میدان میں کھود پڑے ہیں،تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے امیدواروں نے جلوس کی شکل میں عدالت کے احاطے میں آکر کاغذات نامزدگی جمع کئے۔

قومی اسمبلی کیلئے سابق صدر پرویز مشرف نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کی جبکہ اسی نشست پر پچھلے انتخابات میں آل پاکستان مسلم لیگ کے شہزادہ افتخار الدین جیت چکے تھے جو بعد میں پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ میں شامل ہوئے اور اس انتخابات میں وہ مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ صوبائی نشست پر معروف قانون دان عبد الولی خان ایڈوکیٹ قسمت آزمائی کررہے ہیں ،،عبدالولی خان ایڈوکیٹ پہلے جماعت اسلامی میں تھے جسے چھوڑ کر وہ آفتاب شیرپائو کی قومی وطن پارٹی میں آگئے وہ مسلسل صوبائی اسمبلی کی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں مگر ابھی تک قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

(جاری ہے)

اس کے بعد انہوںنے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت احتیار کرلی اور بعد میں پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ میں شامل ہوئے اس سال وہ اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کیلئے مولانا عبد الاکبر چترالی، محمد یحییٰ، سعید الرحمان ، محمد امجد، حزب اللہ، ، عید الحسین، نثار دستگیر، سلیم خان، شہزادہ محمد تیمور خسرو، وجیہ الدین، ہدایت الرحمان، سابق صدر جنر ل ریٹائرڈ پرویز مشرف،، اسی کے پارٹی کے کورنگ امیدوار کے طور پر سلطان وزیر خان، مسز تقدیرہ اجمل، شہزادہ افتحار الدین، عبد القیوم، پاکستان تحریک انصاف کے عبد الطیف اور آزاد امید وار شاہ ابوالمنصور نے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد خان کے دفتر میں جمع کئے قومی اسمبلی میں صدر پرویز مشرف کے مقابلے میں مضبوط امیدوار شہزادہ افتحار الدین کو سمجھے جاتے ہیں جو نواز گروپ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی کے وین کیلئے 27 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی سینئر سول جج ریٹرننگ آفیسر عابد زمان کے دفتر میں جمع کئے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ امیر اللہ، عبد الرحمان، سید سردار حسین شاہ، سعادت حسین محفی، مولانا عبد الاکبر چترالی، سردار احمد خان، سہراب خان، حزب اللہ، اسرار الدین، عطا ء اللہ، وزیر خان، غلام محمد، شہزادہ امان الرحمان، ہدا یت الرحمان، رضیت با اللہ، عبد الصمد، وجیہ الدین، مصبا ح الدین، سلطان وزیر خان، شہزادہ امیر حسنات الدین، محسین حیات، تقدیرہ اجمل، شفیق الرحمان، امیر اللہ، عبدالولی خان عابد، شاہ ابو المنصور۔

ان امیدواروں میں اکثر سابق پارلیمنٹیرین رہ چکے ہیں۔ مثلاً حاجی غلام محمد جو جو مرتبہ آل پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتحب ہوئے تھے مگر دوسری بار پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار حسین نے دوبارہ گنتی کرواکے اسے ہرادیا اور وہ ایم پی اے منتحب ہوئے۔ حاجی غلام محمد بعد میں جمعیت علمائے اسلام میں چلے گئے اور حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتحابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اے پی ایم ایل کی واحد خاتون امیدوار تقدیرہ اجمل پہلی بار بطور خاتون امیدوار انتحابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ سب سے کم عمر امیدوار جماعت اسلامی کے وجیہ الدین ہے۔ دروش سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنماء رضیت با اللہ نے آزا د امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کئے اس بار بعض سیاسی پارٹیوں کے وہ امیدوار جن کو پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہیں ملی انہوںنے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے شہزادہ امان الرحمان نے بھی کاغذات جمع کئے جن کے بارے میں توقع کیا جاتا تھا کہ اسے پارٹی کا ٹکٹ دیا جائے گا مگر پارٹی نے اسرار صبور کا نام تجویز کیا۔سابق صدر پرویز مشرف کے پارٹی کے جانب سے بھی کئی امیدواروں نے کورنگ امیدوار کے طور پر کا غذات جمع کئے۔