مقبوضہ کشمیرمیں 1996ء کے بعد سے سیاسی یا انسانی حقوق کے تحفظ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، انجینئر رشید

جمعہ جون 15:03

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد اسمبلی کے رکن انجینئر عبدالرشید نے کہا ہے کہ 1996ء کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں سیاسی یا انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوںنے بھارت نوازسیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی ایک بھی کامیابی کو سامنے لائیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انجینئر رشید نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دونوں جماعتوں نے وقتا فوقتا کشمیری عوام کی خواہشات اور حقوق کی پامالی کیلئے بھارت کا ساتھ دیا ہے اور اقتدار کے حصول کیلئے کشمیریوں کے حقوق کی قربانی دی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بلا شبہ مقبوضہ علاقے میں نام نہاد مخلوط حکومت کا خاتمہ عوامی مزاحمت کی فتح ہے تاہم جس طرح بی جے پی نے ہر کسی خاص طورپر پی ڈی پی کو حیران کیا ہے وہ مقبوضہ علاقے میں جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت اور کشمیریوں کے مفادات کی جنگ لڑنے کے بلند و بانگ جھوٹے دعوے کرنے والی تما م بھارت نواز جماعتوں کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

(جاری ہے)

انجینئر رشید نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی دونوںبی جے پی کی طرف سے محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی حمایت ختم کرنے کے نفسیاتی پہلوئوں کو سمجھنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے کہ کشمیر میں جو بھی برسر اقتدار ہو بھارت کیلئے اس کی حیثیت ایک ٹشو پیپر کے سوا کچھ نہیں۔