اتحادی ممالک کے وزرائے اطلاعات کا اجلاس‘ اتحادی ممالک کے میڈیا کے شعبہ میں باہمی تعاون کے فروغ کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا

یمن میں قانون کی حکمرانی کیلئے تعاون کرنے والے اتحاد نے یمن کے 85 فیصد علاقوں کو حوثی باغیوں سے آزاد کرالیا‘ سعودی وزیر ڈاکٹر عواد بن صالح العواد کا اجلاس سے خطاب پاکستان یمن میں امن وامان کے قیام کیلئے تمام تر کوششوں کی حمایت کرتا ہے‘ پاکستان یمن کی جلد آزادی کا خواہشمند ہے تاکہ یمن میں امن وسلامتی کا جلد از جلد قیام ہوسکے‘ وزارت اطلاعات و نشریات کے ایڈیشنل سیکرٹری شفقت جلیل کا اجلاس سے خطاب

اتوار جون 20:20

, جدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) سعودی عرب کے ثقافت اور اطلاعات کے وزیر ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے کہا ہے کہ یمن میں قانون کی حکمرانی کیلئے تعاون کرنے والے اتحاد نے یمن کے 85 فیصد علاقوں کو حوثی باغیوں سے آزاد کرانے کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی اعلیٰ قیادت کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ روز اتحادی ممالک کے وزرائے اطلاعات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اتحادی ممالک کے میڈیا کے شعبہ میں باہمی تعاون کے فروغ کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتحادی ممالک یمن میں عوام کے تحفظ کیلئے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے پر عزم ہیں تاکہ یمن میں قانونی حکومت کی مدد کی جاسکے جو دہشتگردوں کے خلاف نبردآزما ہے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پاکستان سمیت فوجی اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے اطلااعات و نشریات اور وفود نے شرکت کی۔ اس موقع پر سعودی وزیر نے کہا کہ اتحادی افواج حوثی ملیشیا کے رہنمائوں کی نقل وحمل کو محدود تر کردیا ہے اور مختلف محاذوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اجلاس کا انعقاد یمن میں آئینی و قانونی حکومت کی بحالی، حوثی باغیوں کے حملوں سمیت سعودی عرب کو درپیش سرحدی خطرات اور خطے کی سلامتی کا جائزہ لینے کیلئے کیا گیا۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ساعدہ اور ثناء کے علاقوں میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں میں نمایاںکامیابیاں ملی ہیں اور اس دوران کئی مقامات پر حوثی باغیوں کے قبضہ کو ختم کرکے علاقے آزاد کرائے گئے ہیں اس کے علاوہ حوثی ملیشیا کے سپلائی روٹس کو بلاک کیا گیا ہے اور فوجی کارروائی میں اسلحہ تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں باغیوں کو ہلاک بھی کیا گیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب پر152 سے زائد میزائل حملے کیے ہیں جن کے باعث سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات درپیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے حملوں کو سعودی ائیر ڈیفنس فورسز نے بہادری اور کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے انہیں ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ جیسے مقدس شہر کے مختلف علاقوں پر بھی حملہ کی جسارت کی گئی ہے۔

سعودی وزیر نے کہا کہ سعودی اتحاد صرف فوجی اتحاد پر ہی مبنی نہیں ہے بلکہ اتحادی ممالک سیاسی اور انسانی حقوق کے شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد گزشتہ عرصہ کے دوران اتحادی ممالک کے میڈیا کے شعبہ میں تعاون کا جائزہ لینا ہے تاکہ مشترکہ مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ شعبہ میں مزید تعاون اور ترقی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس کا ایک اور اہم بنیادی مقصد اتحادی ممالک کی کاوشوں کی مخالفت کرنے والے میڈیا کے مزموم مقاصد کو ناکام بنانا بھی ہے تاکہ ان کے ایجنڈے کو ناکام بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اتحاد کے مخالف میڈیا کی غلط اور گمراہ کن اطلاعات کے خاتمہ کیلئے ضروری ہے کہ اتحادی ممالک کا میڈیا حوثی باغیوں کی کارروائیوں کو عوام تک پہنچائے تاکہ حوثیوں کے غیر انسانی ،غیر اخلاقی اور مجرمانہ کردار کو ننگا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اتحادی ممالک کے میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ حقائق کو منظر عام پر لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ دشمنوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط اور گمراہ کن اطلاعات کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ پوری ذمہ داری اور پیشہ وارانہ انداز میں شفافیت کے ساتھ صرف سچائی اور حقائق بیان کئے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یمن میں اتحادی افواج کی جانب سے فوجی،سیاسی اور انسانی حقوق کیلئے کی جانے والی کارروائیوں کو اجاگر کرنے کیلئے اتحادی ممالک کے میڈیا میں باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کے وزیراطلاعات معمر بن مطاہر الاریانی نے یمن کے عوام کو تعاون فراہم کرنے پر میڈیا کے تمام اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے عرب خطے اور بالخصوص سعودی عرب کے حوالے سے حوثیوں کی کارروائیوں کے بارے میں حقائق پیش کئے۔ انہوں نے یمن کی حکومت کی اپیل پر فوجی اتحاد کی تشکیل اور یمن میں قانونی حکومت کے قیام کیلئے کی جانے والی اپیل پر مدد فراہم کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے صدر عبدالربوح منصور ہادی نے یمن کے تحفظ اور عوام کو حوثیوں کی جانب سے پہنچنے والے نقصان کے خلاف مدد کی اپیل کی تھی۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے ایڈیشنل سیکرٹری شفقت جلیل جو پاکستانی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔انہوں نے دیر پا امن وامان کے قیام کیلئے تمام فریقین کو مذاکرات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن میں امن وامان کے قیام کیلئے تمام تر کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور یمن کی جلد آزادی کا خواہشمند ہے تاکہ یمن میں امن وسلامتی کا جلد از جلد قیام ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن میں عبدالربوح ہادی منصور ہادی کی قانونی حکومت کے غیر مشروط بحالی کا مطالبہ کرتا ہی اور اس کے علاوہ ثناء پر دہشتگردوں کے قبضہ کے خاتمہ سمیت باغیوں کی جلد از جلد واپسی چاہتا ہے۔

شفقت جلیل نے کہا کہ یمن میں جاری جنگ سے پورے خطے کی سلامتی اور امن و امان کو خطرات درپیش ہیں جو ہماری فوری توجہ چاہتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی نیشنل انفارمیشن کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی افواج نے اتحادی افواج کے تعاون سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ساحلی شہر ہودیدہ پر قانونی حکومت کی بحالی سے تنازعہ کے پرامن حل کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے حوثی باغیوں پر دبائو بڑھا ہے تا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور تنازعہ کا سیاسی حل ڈھونڈیں۔

بحرین کے وزیر اطلاعات علی بن محمد الرواہی نے کہا کہ سلطنت بحرین خطے اور دنیا میں امن و امان کی سعودی عرب کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اس حوالے سے فوج اور میڈیا کے تعاون میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ سوڈان کے نائب وزیراعظم اور وزیراطلاعات احمد بلال عثمان نے کہا کہ سوڈان یمن میں قانونی حکومت کی بحالی چاہتا ہے کیوں کہ یمن میں امن و امان اور سیاسی مسائل کی وجہ سے سعودی عرب کی سلامتی سمیت مقدس مقامات کی سلامتی کو بھی خطرات درپیش ہیں۔

جبوتی کے وزیر اطلاعات عبدی یوسف سوجیح نے کہا کہ جبوتی میں کئی یمنی پناہ گزین ہیں اور یمن میں جنگ کے ابتدائی دن سے پناہ حاصل کرنے والے یمنیوں کو ہم پناہ گزینوں کی بجائے اپنے شہری سمجھتے ہیں۔ مصر کی سپریم کونسل آف انفارمیشن کے صدر مکرم محمد احمد نے کہا کہ یمن میں امن، سلامتی اور استحکام مشرق وسطیٰ میں امن و امان کے لئے ایک اہم جزو ہے۔ کویت کے وزیراطلاعات اور نوجوانوں کے امور کے وزیر محمد الجابری نے کہاکہ کسی بھی مسئلہ کے سٹریٹجک مقاصد کی وضاحت اور اس حوالے سے اطلاعات کی فراہمی کے لئے میڈیا کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے یمن کی صورتحال کی بہتری اور امن و امان کے قیام تک اتحادی کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں تا کہ یمن میں قانونی حکومت کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔