الیکشن کے التواء کا کوئی جواز نہیں ،شفاف اور بروقت انتخابات کا یقین دلاتے ہیں ،فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کا اقدام اس صدی کا تاریخی کارنامہ ہے، پاکستان پانی کو ضائع کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے،کالا باغ ڈیم کے متنازعہ ہونے کے باعث باقی 9 ڈیمز بھی نہیں بنائے جا سکے

وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر کا بارز میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

منگل جون 23:00

لاہور۔26 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن کے التواء کا کوئی جواز نہیں ، پرامن ، صاف، شفاف اور بروقت انتخابات کا یقین دلاتے ہیں ،یہ ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم پورا کریں گے ،اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کاسٹ کرنے کا اہتمام کرنا پڑے گا، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نادرا سے رابطے میں ہے، کالا باغ ڈیم کے متنازعہ ہونے کی وجہ سے باقی 9 ڈیمز بھی نہیں بنائے جا سکے۔

منگل کو لاہور ہائیکورٹ بار میں صوبے بھر کی بارز میں گرانٹس کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کو ضائع کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے ، پانی کے مسئلے پر ایک واٹر کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے جس میں ماہرین کو بلایا جائے۔

(جاری ہے)

بجلی لوڈشیڈنگ کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر ایک وائٹ پیپر بننا چاہیئے، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیویشن ، جنریشن پر کام نہیں کیا گیا اورنہ ہی سولر انرجی کے حصول کیلئے کوئی اقدامات کئے گئے۔

عام انتخابات کے بعد ایک سال بعد فاٹا میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے پائی جانے والی قانونی پیچیدگیوں کے متعلق ایک سوال پر سید علی ظفر نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں ضم کرنے کے بعد اب وہاں عدالتوں اور پولیس اسٹیشنز اور دیگر قانونی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے معاملات درپیش ہیں، یہ سارے کام کسی جادو کی چھڑی سے ایک دن میں نہیں ہو سکتے ، اسکے لئے وقت درکار ہے ، اس لئے وہاں بعد میں الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا، آئین میں اس حوالے سے انتظامات کئے گئے ہیں، فاٹا کے معاملے پر ایک قانونی کمیٹی میری سربراہی میں بنی ہے جو اس سلسلے میں پیپر ورک کر رہی ہے جبکہ ایک فنانس کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو فاٹا کے مالی معاملات پر کام کر رہی ہے، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی جا چکا ہے، عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا، بہرحال فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کا اقدام اس صدی کا تاریخی کارنامہ ہے۔

عدالت کی طرف سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دیئے جانے کے بعد انہیں وطن واپس لانے کے متعلق ایک سوال پر وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر نے کہا کہ قانون کے مطابق بیرون ملک سے کسی اشتہاری ملزم کو لانے کے لیئے ریڈ وارنٹ جاری کیئے جاتے ہیں اور اس کا ایک قانونی پراسیس ہوتا ہے ، اس معاملے کو قانون کے مطابق دیکھیں گے۔

قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ بار میں صوبے کے مختلف بارز کے عہدیداروں میں گرانٹس چیکوں کی تقسیم کی تقریب سے مختصر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر نے کہا کہ میرے والد بھی وکیل ہیں، بچپن سے وکالت دیکھ رہا ہوں وکلاء بارز کو اپنی فیملی سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شفاف ، پرامن الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے جو بھی مسائل ہیں انہیں جتنا ممکن ہوا حل کرینگے ، ہماری کوشش ہے کہ آئندہ آنے والی حکومتوں کو گائیڈ لائن چھوڑ کر جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی بارز سے رابطے میں ہوں ایک ایسے قانونی عمل کی ضرورت ہے جس کے ذریعے بارز کو باقاعدگی سے فنڈز ملیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلاء ہمارا مستقبل ہیں، انکے مسائل کو بھی ہمیں دیکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ قانون بننا چاہیئے کہ نجی ادارے لیگل ایڈوائزر تعینات کرنے کے پابند ہوں، اس سے نوجوان وکلاء کو روزگار کے موقع ملیں گے جبکہ لیگل ڈاکو مینٹیشن صرف وکلاء کے ذریعے ہی کی جائے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے بنجاب بھر سے آئے ہوئے وکلاء عہدیداروں میں چیک تقسیم کئے۔ وفاقی وزیر نے پنجاب بار کونسل کو چھ ملین اور لاہور ہائیکورٹ بار کو چار ملین کا چیک دیا ۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر انوار الحق پنوں اور سیکرٹری حسن اقبال وڑائچ نے پنجاب بھر کی بارز میں وفاقی وزیر کی طرف سے گرانٹس دینے کے اقدام کو خراج تحسین پیش کیا اور لاہور ہائیکورٹ بار کا دورہ کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر وکلاء رہنمائوں اور بارز کے وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی ۔