اے این پی کے جلسے میں دھماکے کے بعد ہنگامی صورتحال

پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،شہر میں ہائی الرٹ کردیا گیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جولائی 00:18

اے این پی کے جلسے میں دھماکے کے بعد ہنگامی صورتحال
پشاور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 11 جولائی 2018ء) اے این پی کے جلسے میں دھماکے کے بعد ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر،شہر میں ہائی الرٹ کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق کچھ دیر پہلے پشاور کے علاقے یکہ توت میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جگہ کا تعین کرنے پر معلوم ہوا کہ پشاورکے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں خوفناک دھماکہ ہوا ہے۔

دھماکہ اسٹیج کے قریب ہوا اس لئیے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دھماکے میں سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دھماکے سے قریبی املاک کو شدید نقصان پہنچا جبکہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں متعددافراد زخمی ہو چکے ہیں۔

دھماکے میں نشانہ بننے والوں میں اے این پی کے رہنما اور انتخابی امیدوار ہارون بلور بھی شامل ہیں۔

ہارون بلور شہد بشیر بلور کے صاحبزادے ہیں جو اب دھماکے کے نتیجے میں جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے دیگر 6 افراد بھی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور متعلقہ ادارے موقع پر پہنچ گئے ہیں۔امدادی کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کئیے جا رہے تھے۔تازہ ترین معلومات کے مطابق پشاور بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔یاد رہے کہ خفیہ ادارے پہلے سے ہی جن جماعتوں کے جلسوں کے نشانہ بننے کا بتا چکے ہیں اے این پی ان میں سے ایک ہے ۔محکمہ انسداد دہشتگردی نے خفیہ اداروں کی 2 رپورٹس کی بنیاد پر خبردار کیا ہے کہ الیکشن کے عمل کو تباہ کرنے کے لیے دہشتگردوں کی جانب سے ممکنہ تخریب کاری اور خود کش دھماکے ہو سکتے ہیں۔

نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں انکشاف ہوا ہے کہ انتخابات 2018 کے دوران 18 سیاسی رہنماؤں پر دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے۔ نیکٹا حکام کے مطابق ممکنہ حملوں سے متعلق آئی ایس آئی اور آئی بی کی جانب سے نیکٹا کو آگاہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے تما م صوبائی حکومتوں اورمتعلقہ اداروں کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ نیکٹا حکام کے مطابق الیکشن کے دوران 12عام اور 6 مخصوص سیاسی شخصیات کے لئے تھرٹ الرٹ موصول ہوئی ہیں اوردہشت گردوں کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی ٹاپ لیڈر شپ کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے.

Your Thoughts and Comments