سی پیک خطے کے ممالک میں روابط کا بہترین منصوبہ ، ہمسائیوں سے تجارتی مقاصد کے لیے ریل اور بنیادی ڈھانچہ بہتر کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی

تہران، استنبول راہداری اور پاک،ایران،ترکمانستان ریلوے منصوبے کو بھی فعال بنائیں گے،تحریک انصاف کی انتخابات میں کامیابی میں نوجوانوں نے اہم کردارادا کیا، پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی وسیع البنیاد تعلقات چاہتا ہے، وزیر خارجہ غیرملکی راہنمائوں سے ملا تیں

منگل ستمبر 16:35

سی پیک خطے کے ممالک میں روابط کا بہترین منصوبہ ، ہمسائیوں سے تجارتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران شرکت میں غیرملکی راہنمائوں سے ملاقاتوں کاسلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز شاہ محمود قریشی نیویارک پہنچتے اور گزشتہ روز (پیر) سے انہوںنے بیرونی ممالک کی اعلی قیادت سے ملاقاتوں کوسلسلہ شروع کردیا ہے۔ وزارت خارجہ سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم سے ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے عالمی بینک کے صدر کو کہا ہے کہ عالمی بینک پاکستان کے بھارت کے مابین پانی کے مسئلے کو حل کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔ کیونکہ دونوں ممالک سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہے ہیں لہذا پاکستان چاہتا ہے کہ ورلڈ بینک دونوں ممالک کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرے۔

(جاری ہے)

دفترخارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران اقتصادی تعاون کی تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان (ایکو ) ممالک سے بہتر تعلقات رکھتا ہے، کچھ ایکو ممالک میں توانائی کا بحران ہے جب کہ بعض کے پاس وافر ذخائر ہیں، خطیمیں توانائی کیروابط پاکستان کی ترجیح ہے، سی پیک خطے کے ممالک میں روابط کا بہترین منصوبہ ہے، ہم ہمسائیوں سے تجارتی مقاصد کے لیے ریل اور بنیادی ڈھانچہ بہتر کررہے ہیں،ہم تہران، استنبول راہداری اور پاک،ایران،ترکمانستان ریلوے منصوبے کو بھی فعال بنائیں گے۔

انہوںنے سال 2017ء کے اجلاس کا حوالے دیتے بتایا کہ ایکو کے 13اجلاس کے دوران پاکستان کاسا 1000اور ٹاپی جیسے منصوبوںپر پہلے ہی کام کررہا ہے۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان افغانستان کی تعمیر وترقی کیلئے پانچ ملین ڈالر خرچ کرے اور دوملین ڈالر جمع کروا چکا ہے۔ شاہ محمود نے امریکی ایوان نمائندگان ’کانگریس‘ کی امور خارجہ اور آرمڈ سروسز کمیٹیوں کے رکن جوئے ولسن سے بھی ملاقات کی، اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کی ترجیح نوجوانوں کو تعلیم اور ملازمتوں کے مواقع کی فراہمی ہے کیونکہ تحریک انصاف کی انتخابات میں کامیابی میں نوجوانوں نے اہم کردارادا کیا، پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی وسیع البنیاد تعلقات چاہتا ہے۔

جوئے ولسن نے کہا کہ خطے میں مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ نیویارک میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ خطے میں پانی کا مسئلہ بہت گھمبیر ہوتا جارہا ہے اور پاکستان اس سے بری طرح متاثر ہوگا، عالمی بینک کے صدر نے یقین دلایا ہے کہ اس سلسلے میں ایک اور کوشش کی جائے گی۔۔