ڈاکٹر مجاہد کامران کے انکشافات پرنیب کیخلاف جے آئی ٹی بنانےکا مطالبہ

جے آئی ٹی بنانے کے حق میں قرار داد پنجاب اسمبلی میں جمع، نیب کی حوالات عقوبت خانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، زیر حراست لوگوں کوزبردستی وعدہ معاف گواہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کا قرار داد کا متن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ نومبر 20:31

لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 نومبر 2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن نے ڈاکٹر مجاہد کامران کے انکشافات پر نیب کیخلاف قرار داد جمع کروا دی، انکشاف کے مطابق نیب کی حوالات عقوبت خانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، زیر حراست لوگوں کوزبردستی وعدہ معاف گواہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کروا دی ہے، قرار داد میں ڈاکٹر مجاہد کامران کے انکشافات پر نیب کیخلاف تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرار داد کے متن کے مطابق سابق وی سی پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران نے نیب سے متعلق حیران کن انکشاف کیے۔ انکشاف کے مطابق نیب کی حوالات عقوبت خانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

(جاری ہے)

لوگوں کو من مرضی کے نتائج حاصل کرنے کیلئے تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے۔ ملزمان کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ زیر حراست لوگوں کوزبردستی وعدہ معاف گواہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔

واضح رہے سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران نے دوران حراست نیب کے قیدیوں سے نارواسلوک سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ نیب پہلی بار دفاعی پوزیشن میں ہے، فواد حسن فواد سے بات ہوئی اس سے پوچھا کہ سنا آپ وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں توانہوں نے کہا کہ وعدہ معاف گواہ بن جاتا توجیل میں نہ ہوتا۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں 10سے 20 فیصد اساتذہ ایڈہاک پر کام کرتے ہیں۔

سنڈیکیٹ میں ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج ہوتے ہیں ، ایڈیشنل سیکرٹری ہائرایجوکیشن ہوتے ہیں، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس اور گورنر کی جانب سے نامزد تین ممبران بھی ہوتے ہیں۔سنڈیکیٹ بالکل خود مختار ادارہ ہے وائس چانسلر کا سنڈیکیٹ پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے جیل میں رہ کردیکھا ہے کہ نیب اگر کسی کوغلط بھی پکڑتی ہے توان کی انا اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اب ہم نے اگر اس کوپکڑ لیا ہے تو ہمارے بارے میں یہ ثابت نہ ہوکہ ہم نے غلط پکڑا ہے۔

میں نے بہت سارے لوگ وہاں بے گناہ گرفتار دیکھے ہیں۔نیب کے جیل سیل کے 14 کمرے ہیں ، سارے کمرے آمنے سامنے ہیں جن میں 7کمرے ایک طرف اور 7کمرے دوسری جانب سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف سیل نمبر 13میں ہیں۔ شہبازشریف اپنے سیل میں اکیلے ہیں جبکہ باقی سیل میں چارچار لوگ ہیں۔وہاں دن اور رات کا پتا نہیں چلتا۔ ہر وقت لائٹیں جلتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیل میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں بلکہ جو گفتگو بھی کرتے ہیں وہ بھی ان کوسنائی دیتی ہے۔شرمناک بات یہ ہے کہ جہاں لوگ غسل کرتے ہیں وہاں بھی سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوتا ہے۔انہوں نے ہمارے لیے چارپائیاں منگوائیں لیکن میں نے کہا کہ میں فرش پر دوسرے لوگوں کی طرح گدے پر ہی سویا کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میرے سیل میں نندی پور میں کام کرنے والاایک ڈرائیور تھا جس نے غلطی سے اپنے موبائل میں فرنس آئل چوری ہونے کی تصویر بنالی۔

وہ تصویر اس نے کسی کودکھائی تووہ اس کوباس کے پاس لے گیا ۔ باس نے رشوت دے کرکیس بنوایا اور وہ اڑھائی سال پہلے بھی جیل میں رہا۔اس کے بعد نیب اٹھا کرلے آئی ہے۔اس نے کہا کہ میرے بچے رل گئے ہیں۔ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ چیئرمین نیب نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے کہ اہلکاروں کو تفتیش کے عمل سے روک دیا ہے۔تفتیش صرف افسران کریں گے۔ چیئرمین نیب کویہ کام بھی کرنا چاہیے کہ نیب اہلکار میڈیا کومسخ شدہ یا جھوٹی خبریں نہیں دیں گے۔

جیسا کہ میرے بارے میں کہا گیا کہ مجھے پروفیسر لیاقت علی کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا یہ بالکل جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس وقت سے ٹارگٹ کیا جارہا ہے جب سے میں نے امریکن اسٹیبلشمنٹ کیخلاف کتابیں لکھیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ جھوٹ بولتی ہے۔مثال کے طور پر میں نائن الیون پر کتاب لکھی ہے۔میرے خلاف پہلے انٹی کرپشن میں کیس بنوایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے چیئرمین نیب کو بتایا کہ میں 9سال وائس چانسلر رہا ہوں۔ میں نے جب گھر خالی کیا توکرائے کے گھر میں گیا۔یہ میرے ساتھ پروفیسر بیٹھے ہوئے ہیں ان سے میں نے 20قرض لیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب پہلی بار دفاعی پوزیشن پر ہے۔ نیب سعد فیق کے خلاف کیسز ڈھونڈ رہی ہے۔ فواد حسن فواد سے بات ہوئی اس سے پوچھا کہ سنا آپ وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں توانہوں نے کہا کہ وعدہ معاف گواہ بن جاتا توجیل میں نہ ہوتا۔