سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی رہنماء عامر لیاقت کو معاف کردیا

عامر لیاقت نے سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کروایا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات دسمبر 17:37

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی رہنماء عامر لیاقت کو معاف کردیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 دسمبر2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کو معاف کردیا۔ عامر لیاقت نے سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کروایا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی رہنماء عامر لیاقت کی معافی قبول کرلی ہے۔ سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کو معاف کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثارنے کہا کہ عامر لیاقت کے چہرے سے نہیں لگ رہا کہ معافی مانگ رہے ہیں۔عامر لیاقت نے کہا کہ آپ کی موجودگی میں چیمبر میں معافی نامہ بھجوایا تھا۔ مزید برآں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی اسکولوں کو فیس میں 20 فیصد کمی کرنے اور 2 ماہ کی چھٹیوں کی فیس کا 50 فیصد والدین کو واپس کرنے کا حکم دیدیا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدالت ہائی کورٹس کے فیصلوں کی پابند نہیں، آگاہ کیا جائے فیس میں خاطر خواہ کمی کیسے ہو گی عدالت خود فیصلہ کرے گی کہ فیس میں مناسب کمی کتنی ہو گی۔

(جاری ہے)

جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کی زائد فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی اس سلسلے میں نجی اسکولوں کے وکیل، ڈپٹی آڈیٹر جنرل اور چیئرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت ہائی کورٹس کے فیصلوں کی پابند نہیں، آگاہ کیا جائے فیس میں خاطر خواہ کمی کیسے ہو گی،عدالت خود فیصلہ کرے گی کہ فیس میں مناسب کمی کتنی ہو گی۔

اس موقع پر بیکن ہاؤس کے وکیل نے کہا کہ ہر اسکول کی فیس اور سالانہ اضافہ مختلف ہے، پنجاب کے سابق وزیر تعلیم نے سالانہ 10 فیصد اضافے کا قانون بنانے کا کہا اور رانا مشہود اسمبلی سے صرف 8 فیصد کی منظوری لے سکے اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے سابق وزیر تعلیم کا اپنا بھی کوئی اسکول ہو گا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک ایک کمرے کے اسکول سے اتنا اتنا پیسہ بنایا، اب یہ صنعت کار بن گئے ہیں۔

دورانِ سماعت نجی اسکول کی وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ تمام اسکول 8 فیصد فیس کم کرنے کو تیار ہیں اس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ 8 فیصد تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 20 سال کا آڈٹ کرایا تو نتائج بہت مختلف ہوں گے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اسکولوں نے اپنی آڈٹ رپورٹس میں غلط اعداد دیے۔