خیبرپختونخوااسمبلی نے افغانستان میں شہید ایس پی طاہرداوڑکے قتل کیخلاف تحریک التواء بحث کیلئے منظورکرلی

جمعرات دسمبر 21:27

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) خیبرپختونخوااسمبلی نے افغانستان میں شہید ایس پی طاہرداوڑکے قتل کیخلاف تحریک التواء بحث کیلئے منظورکرلی ،صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اے این پی کے سردارحسین بابک نے تحریک التواء پیش کی کہ شہیدطاہرداوڑکے بے دردی سے قتل کئے جانے کے فعل سے کئی سوالات جنم لئے ہیں کس طرح اسلام آباد سے ایک پولیس اہلکار کو اغواکرکے افغانستان میں لے جایاگیااوروہاں ان کی لاش ملنا حکومتی ناکامی کاثبوت ہے اس متعلق انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی پربھی بڑاسوالیہ نشان ہے طاہرداوڑکوکس طرح اغواکرکے زمینی راستے افغانستان لے جایاگیااس متعلق تمام تفصیلات سامنے لائی جائیں اور حکومت اپنی ناکامی کااعتراف کرے ،سرداربابک نے کہاکہ پاک پتن کے ڈی پی او کے تبادلے پر تو سوموٹولیاجاتاہے لیکن پشاورکے ایس پی کے قتل پر اس طرح کاکوئی اقدام نہیں اٹھایا، سینکڑوں چیک پوسٹوں کی موجودگی اور بارڈرپرباڑ لگانے کے باوجودطاہرداوڑکوکس طرح لے جایاگیا حکومت خصوصاًوزارت داخلہ عوام کے جان ومال کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے حکومت طاہر کے مسئلے پر اراکین اسمبلی خصوصاًپارلیمانی لیڈرکیلئے ان کیمرہ سیشن انعقادکرے صوبائی وزیرقانون سلطان محمدنے کہاکہ حکومت اپوزیشن کے مطالبے کوتسلیم کرتی ہے صوبائی پارلیمانی لیڈرزکوطاہرداوڑکے مسئلے پر ان کیمرہ سیشن کاانعقادکیلئے تیار ہیں انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستانی افواج اور دیگرفورسزکی خدمات کوپوری دنیامیں سراہاجارہاہے اس دلخراش واقعے پر وزیر داخلہ نے خود طورخم بارڈرپرحاضری دی تاکہ ان کی جسد خاکی کووصول کیاجاسکے۔

(جاری ہے)

بعدازاں اسمبلی نے تحریک التواء کو بحث کیلئے منظورکرلی۔