بیرسٹر فہد قتل کیس ، وفاقی پولیس نے قاتلوں کی حمایت میں واقعہ کے چشم دید گواہ کو گواہی سے روکنے کیلئے اغواء کرلیا

آئی جی پی کے فوری ایکشن پر واقعہ میں ملوث ڈی ایس پی سمیت دیگر پولیس افسران کیخلاف انکوائری شروع

جمعرات دسمبر 22:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 دسمبر2018ء) بیرسٹر فہد قتل کیس میں وفاقی پولیس نے قاتلوں کی حمایت میں واقعہ کے چشم دید گواہ کو گواہی سے روکنے کیلئے اغواء کرلیا،آئی جی پولیس اسلام آباد کے فوری ایکشن پر واقعہ میں ملوث ڈی ایس پی سمیت دیگر پولیس افسران کیخلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے،پولیس ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی عبدالرزاق اور ایس ایچ او تھانہ رمنا جمشید خان نے اس وقت قاتل کو بچانے کیلئے قتل کے اہم گواہ ملک طارق کو حراست میں لیا،جب وہ معرو ف پراپرٹی ڈیلر راجہ ارشد کیخلاف قتل کی گواہی دینے کے لئے دہشتگردی کی عدالت میں پہنچا۔

پولیس ذرائع کے مطابق بیرسٹر فہد قتل کے سلسلہ میں وزیراعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو مقتول کے گھر جاکر دعائے مغفرت کے بعد قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے نوازشریف حکومت کو اہم پیغام بھی دیا تھا جبکہ گزشتہ دنوں گنگا اس وقت الٹا بہنا شروع ہوئی جب وزیراعظم کے عہدہ پر عمران خان اور وزارت داخلہ کا قلمدان بھی خود رکھتے ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہوگیا۔

(جاری ہے)

ایک ڈی ایس اور انسپکٹر نے سابق مقدمہ486/18 میں مطلوب ملک طارق کو اس وقت گرفتار کرلیا جب ملک طارق بہت بڑے پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف اہم مقدمہ کی گواہی دینے کیلئے دہشتگردی عدالت پہنچا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی نے واقعہ کی اطلاع جب آئی جی کو دی تو انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی انکوائری کرنے کا حکم دیا۔بعد ازاں ملک طارق کے وکیل نے تھانہ رمنا جاکر ملک طارق کو ضمانت پر رہا کروایا۔ادھر ایس پی صدر کو ڈی ایس پی عبدالرزاق اور انسپکٹر جمشید خان کیخلاف انکوائری کرنے کا حکم دیدیاگیا۔مؤقف جاننے کیلئے ڈی ایس پی عبدالرزاق کو فون کیا گیا تو انہوں نے کال موصول نہیں کی