پیپلزپارٹی کا وزیراعظم، وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ

بلاول بھٹو پہلے مرحلے میں وزارت داخلہ کو یاددہانی خط لکھیں گے، عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جائے گا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ جنوری 16:05

پیپلزپارٹی کا وزیراعظم، وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 جنوری2019ء) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے حکومتی وزیراعظم ،وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کردیا ہے، ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو پہلے مرحلے میں وزارت داخلہ کوای سی ایل میں نام ڈالنے کی یاددہانی کیلئے خط لکھیں گے، بعد ازاں عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی ایک بار تحریک انصاف کے رہنماؤں اور حکومتی وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈلوانے کیلئے سامنے آگئی ہے۔

انہوں نے وفاقی وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جن وزراء کیخلاف تحقیقات ہورہی ہیں یا پھر جن کیخلاف کرپشن الزامات ہیں ان کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ، زلفی بخاری، وزیردفاع پرویز خٹک ، علیمہ خان،فہمیدہ مرزا، فروغ نسیم ، خالدمقبول صدیقی سمیت دیگر کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اس حوالے سے پہلے مرحلے میں وزارت داخلہ کو یاددہانی کیلئے خط لکھے گی۔جبکہ عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ اس سے قبل اکتیس دسمبر کوسندھ اسمبلی میں اہم حکومتی ارکان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی قرارداد بھی جمع کرائی گئی تھی۔ یہ قرارداد پیپلز پارٹی کی سعدیہ جاوید نے سندھ اسمبلی میں جمع کرائی۔

قرار داد میں کہا گیا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک، زلفی بخاری کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ قرارداد میں وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم اور وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا بھی ذکر شامل ہے۔ خیال رہے کہ وزیرِ اعلی سندھ کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک التوا میں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی میں نام آنے پر مراد علی شاہ صادق و امین نہیں رہے۔

واضح رہے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پرفوری عملدرآمد کی بجائے خود کو منوانا اورپیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ہے، سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود بھی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کا نام تاحال ای سی ایل نہیں نکالا، جبکہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جانے لگا۔ وفاقی وزیرفواد چودھری کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ تفصیلی فیصلہ آنے پر ہی نام نکالنے سے متعلق غور کرے گی۔

جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے7 جنوری کومنی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ کا نام فوری ای سی ایل سے نکالا جائے۔ لیکن وفاقی حکومت نے نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ لٹکا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں غور کیا گیا۔

لیکن وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر فوری نام نکالنے سے معذرت کرلی۔ وفاقی وزیرفواد چودھری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزارت داخلہ نے 20 افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کی لیکن وفاقی کابینہ نے نام فوری نکالنے سے معذرت کرلی ہے۔ جن 20 افراد کے نام نکالنے کا حکم دیا گیا ہے اس بارے تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔ عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے پر ہی نام نکالنے سے متعلق غور کیا جائے گا۔