علیم خان کے بعد اب اگلی باری پرویز الٰہی کی ہے،رانا ثناء اللہ کا دعویٰ

گرفتاری سے قبل علیم خان اور پرویز الٰہی کے فون ٹیپ ہورہے تھے، مارچ تک اپوزیشن کے 50سیاسی رہنماؤں کو پکڑنا ہے توپھر 5حکومت کے لوگ بھی پکڑنے ہوں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ فروری 15:37

علیم خان کے بعد اب اگلی باری پرویز الٰہی کی ہے،رانا ثناء اللہ کا دعویٰ
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 فروری2019ء) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ علیم خان کے بعد اب اگلی باری پرویز الٰہی کی ہے، گرفتاری سے قبل علیم خان اور پرویز الٰہی کے فون ٹیپ ہورہے تھے، مارچ تک اپوزیشن کے 50سیاسی رہنماؤں کو پکڑنا ہے توپھر 5حکومت کے لوگ بھی پکڑنے ہوں گے۔انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ علیم خان کے بعد اب اگلی باری پرویز الٰہی کی ہے۔

پرویز الٰہی نے ناراضی ظاہر کی ورنہ پہلا نمبر پرویزالٰہی کا تھا۔ لیکن کہا گیا کہ اگر وہ گرفتار ہوگئے تو پھر پنجاب حکومت نہیں رہے گی۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ علیم خان کی گرفتاری کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان نے خود کیا تھا۔گرفتاری سے قبل علیم خان اور پرویز الٰہی کے فون ٹیپ ہورہے تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ متعدد وزراء کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مارچ تک اپوزیشن کے 50سیاسی رہنماؤں کو پکڑنا ہے توپھر 5حکومت کے لوگ بھی پکڑنے ہوں گے۔ رانا ثنا اللہ خان نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے 25 سے 30اراکین پنجاب اسمبلی ہم سے رابطے میں ہیں اور ان سے وعدہ ہوا ہے کہ حمزہ شہباز کی وطن واپسی پر ان کے ساتھ بیٹھیں گے۔ عمران خان کو اپنے وزراء پر یقین نہیں اور ان کے ماتحت سول ایجنسی فون ٹیپ کر رہی ہے۔

میں چیلنج کرتا ہوں کہ عمران خان کو علیم خان کی گرفتاری کا علم تھا۔ اگر (ق) لیگ آنکھیں نہ دکھاتی تو علیم خان سے پہلے چوہدری پرویز الٰہی کی قربانی ہو جاتی ۔ ایک انٹر ویو میں رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ علیم خان عمران خان کے محسن ہیں، عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ گرفتاری سے پہلے علیم خان کو آگاہ کردیتے کہ جائو اپنی قبل از گرفتاری ضمانت کرا لو۔

رانا ثناءاللہ نے دعویٰ کیا کہ علیم خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے 25سے 30راکین (ن) لیگ سے رابطے میں ہیں، حمزہ شہباز واپس آ لیں ان سے وعدہ ہوا ہے کہ آپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلی بار ی چوہدری پرویز الٰہی کی ہے اور اگر پرویز الٰہی گرفتار ہوئے تو پنجاب حکومت مارچ تک چلتی ہوئی نظر نہیں آتی ۔سابق وزیر قانون پنجاب نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کے ماتحت سول ایجنسی کئی وزرا ء کے فون ٹیپ کرتی ہے ، علیم خان اور پرویز الٰہی کے فون بھی ٹیپ ہوتے ہیں اور ان دونوں رہنمائوں کو فون ٹیپنگ کا علم تھا۔

رانا ثنا نے مزید دعوی کیا کہ پرویز خٹک اورعاطف خان کی فائلیں بھی تیارہیں اور آخر میں عمران خان کے ساتھ صرف پنڈی کا شیطان رہ جائے گا اور معلوم نہیں وہ کس کے ایجنڈے پر ہے ،اگر مارچ تک اپوزیشن کے 50 رہنما پکڑنے ہیں تو حکومت کے بھی 5 پکڑنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ علیم خان نے نہ صرف لوگوں کو ٹکٹ دئیے بلکہ انتخاب لڑنے کے لئے پیسے بھی دئیے ۔ان اراکین کا دباؤ ہے کہ علیم خان 15فروری تک رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کا اتفاق ہے کہ حکومت گرائی تو جمہوریت کو خطرہ ہوگا۔ اگر شہباز شریف کوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹایا گیا تو پارلیمنٹ نہیں چلے گی۔