نواز شریف سے ملنے والا ان کی صحت کا پوچھتا ہے تو وہ ملکی معیشت کا پوچھتے ہیں، رانا ثناء اللہ

ہر آنے والا دن معیشت کا مزید بیڑہ غرق کر رہا ہے، ملکی معیشت ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے،اے پی سی میں ملکی مفاد میں بیٹھیں گے ، اگر احتجاج کا فیصلہ ہوا تو ملکی معیشت مزید نیچے آ جائے گی، نالائق اعظم کو ایک سائیڈ پر کیا جائے، طاقتور طبقہ اپنی اور ملک کی جان چھڑوائیں کسی اور کو لے آئیں :مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کی میڈیا سے گفتگو

جمعرات مئی 21:58

نواز شریف سے ملنے والا ان کی صحت کا پوچھتا ہے تو وہ ملکی معیشت کا پوچھتے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 مئی2019ء) مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ہر آنے والا دن معیشت کا مزید بیڑہ غرق کر رہا ہے۔پی ٹی آئی میں شامل محب وطن لوگ بھی سمجھتے ہیں اس نالائق اعظم کو ایک سائیڈ پر کیا جائے۔طاقتور طبقہ اپنی اور ملک کی جان چھڑوائیں کسی اور کو لے آئیں ۔ملک کی معیشت ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے ، ہمارے پاس چھ آٹھ ماہ نہیں ہیں۔

نوازشریف جیل میں بیٹھے ہیں لیکن انہیں ملکی معیشت کی فکر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نالائق اعظم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ان حالات میں آگے نہیں بڑھ سکتے پی ٹی آئی جس کو آگے لانا چاہتی ہے لے آئے۔

جس میں سمجھ بوجھ ہے اس نالائق اعظم کو ہٹادے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملکی معیشت بہتر ہو جائے غریب آدمی کے حالات بہتر ہو جائیںبس یہی ہماری ڈیمانڈ ہے۔ رانا ثناء نے کہا کہ اسد عمر ارسطو فیل ہو گیا یہ اسکا فیل ہونا نہیں تھا اس نالائق اعظم کے فیل ہوناہے اسے اس وقت ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ میں فردوش عاشق اعوان کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں کرنا چاہتا۔

فردوس عاشق اعوان جو خود منتخب نہ ہو سکی خاتون ہے ہمیں گالیاں دیتی ہے اگر ہم اس عورت کے خلاف بات کریں گے تو ہم پر طعنہ زنی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے ، ہمارے پاس چھ آٹھ ماہ نہیں ہیں۔نوازشریف جیل میں بیٹھے ہیں لیکن انہیں ملکی معیشت کی فکر ہے ۔ وہ لیڈر جو جیل میں بیٹھا ہے آٹھ ماہ سے اپوزیشن کو احتجاج نہیں کرنے دیا جس کو علاج کی سہولت نہیں دی جارہی ۔

اس ملک کو ایٹمی قوت بنانے والا لیڈر پابند سلاسل ہے۔عوام کے لئے سوچنے کی بات ہے کہ عوام کی خدمت کرنے والے کو سزا دی جا رہی ہے۔ ایسے کیسز بنائے گئے جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں ملک کی معیشت سر جوڑ بیٹھے بغیر اچھی نہیں ہو سکتی ۔ نالائق اعظم کو سائیڈ پر کر دیں مل بیٹھ کر حل نکالیں ۔ اے پی سی میں ملکی مفاد میں بیٹھیں گے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اگر اے پی سی میں فیصلہ ہوا کہ احتجاج کرنا ہے تو ملکی معیشت مزید نیچے آ جائے گی۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عام آدمی 2 وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا، علاج معالجہ تک نہیں کروا سکتا۔ نااہل اور نکما ٹولہ آیا یا لایا گیا، اس کا معمہ بھی حل طلب ہے۔نالائق اعظم اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے۔ پی ٹی آئی کسی ایسے بندے کو لے آئے جو سیاستدان ہے اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

نالائق اعظم ایک طرف ہم سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھا لیکن شہباز شریف نے میثاق معیشت کی پیش کش کی۔ انہوں نے کہا کہ عدم برداشت، خوف اور تناو کا ماحول بنا دیا جس میں کوئی ملک آگے نہیں چل سکتا۔ عمران خان نے اپوزیشن سے ہاتھ ملانے سے بچنے کے لئے پارلیمانی لیڈروں کی بریفنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ تمام لیڈرشپ سر جوڑ کر بیٹھیں ورنہ ملک مزید تباہ ہو گا۔

یہ موقع دوبارہ نہیں ملے گا اور ملکی معیشت ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔ نواز شریف سے ملنے والا ان کی صحت کا پوچھتا ہے تو وہ ملکی معیشت کا پوچھتے ہیں۔ پارٹی قیادت کا فیصلہ ہے کہ اے پی سی میں شامل ہوں گے اور اس کا ہر فیصلہ مانیں گے۔ نواز شریف پارٹی فیصلوں کی حتمی منظوری دینگے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ملکی معیشت کی بہتری کے لئے عوام کو سڑکوں پر آنے کا حکم نہیں دیا۔ ہم نے ملکی معیشت کی بہتری کے لئے میثاق معیشت کی پیش کش کی ہے اور دوبارہ کررہے ہیں۔ میڈیا ملکی تاریخ کی بدترین سنسر شپ کا شکار ہے۔