Live Updates

عمران خان مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے فائدہ اٹھائے گا، ہارون الرشید

عمران خان یہ کارڈ استعمال کرے گا کہ مذہبی انتہاء پسندوں نے مجھ پر یلغار کردی، مذہبی جماعتوں مولانا فضل الرحمان، سراج الحق اور طاہر القادری کے پاس ایسے ورکرز ہیں جو ڈٹ جائیں گے۔سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید کا تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل ستمبر 15:24

عمران خان مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے فائدہ اٹھائے گا، ہارون الرشید
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 ستمبر2019ء) سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ عمران خان کومولانافضل الرحمان کے دھرنے کافائدہ پہنچے گا، عمران خان یہ کارڈ استعمال کرے گا کہ مذہبی انتہاپسندوں نے مجھ پر یلغار کردی،مذہبی جماعتوں مولانا فضل الرحمان، سراج الحق اور طاہر القادری کے پاس ایسے ورکرز ہیں جو ڈٹ جائیں گے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد دھرنے میں مولانا فضل الرحمان 15لاکھ لوگ لائیں گے اس کا جواب ہے کہ وہ نہیں لاسکتے ، ہاں !وہ کافی زیادہ لوگ لاسکتے ہیں۔

ان کی ایسی جماعت نہیں جس میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہوں گے، ان کے اپنے مکتبہ فکر کے کافی لوگ ہیں۔سیاسی لوگ اس طرح کے بیان اور دعوے کرتے رہتے ہیں۔ عمران خان سے میں ملنے گیا تو انہوں نے کہا کہ میں 5 لاکھ لوگ اسلام آباد میں لاؤں گا، میں نے کہاکہ آپ نہیں لاسکتے، عمران خان نے کہا کہ میں لاکردکھاؤں گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں فضل الرحمان، سراج الحق اور طاہر القادری کے پاس ایسے ورکرز ہیں جو یہاں ڈٹ جائیں گے۔

ویسے مجھے شبہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان ڈٹ جائیں؟عمران خان کومولانافضل الرحمان کے دھرنے کافائدہ پہنچے گا۔عمران خان یہ کارڈ استعمال کرے گا کہ مذہبی انتہاپسندوں نے مجھ پر یلغار کردی ہے،مولانا فضل الرحمان تون لیگ کو کہہ رہے کہ آپ آجائیں، پیپلزپارٹی بھی مجبوری میں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے کہا تھا تقدیر بدل دیں گے۔ اب عمران خان بھی یہی کہہ رہے ہیں۔

لیکن تقدیر تو صرف اللہ بدل سکتاہے۔یہ صرف سنسنی پھیلانے کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ میں دودھ پینے والے مجنوں ہیں، لیڈرزاور ووٹرز تون لیگ میں ہیں، لیکن ورکرزنہیں ہیں۔ نوازشریف توڑ پھوڑ کے ایسے ماسٹر ہیں کہ الیکشن میں اب 2فیصد ہے تو7فیصد کرسکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت ہے ،وہ کبھی بھی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں نہیں جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ کسی بھی وقت گرفتار ہوسکتے ہیں،ان کے لوگ پیپلزپارٹی چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔ن لیگ نے کہا کہ دھرنا اکتوبر کی بجائے نومبر میں دیا جائے کیونکہ اکتوبر میں ڈینگی ہوگا۔مولانا فضل الرحمان اور ن لیگ والے بھی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہمارے ساتھ ہے، اسٹیبلشمنٹ مصالحت چاہتی ہے لیکن عمران خان نہیں ایسا چاہتے۔فی الحال تو اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ ممکن ہے حکومت اور اسٹیبلمشنٹ بھی سوچتی ہو کہ نوازشریف اور زرداری چلے جائیں گے تو امن ہوجائے گا اور معیشت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔
وزیراعظم کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں خطاب سے متعلق تازہ ترین معلومات