اگلے 2 مہینے میں آئینی بحران پیدا ہونے والا ہے، مظہرعباس

چیف الیکشن کمشنر کی مدت پوری ہورہی ہے، اگرچیف الیکشن کمشنر کی نامزدگی پر حکومت اوراپوزیشن میں کوئی فیصلہ یا رابطہ نہ ہوا تو الیکشن کمیشن کا کیا ہوگا؟ حکومت اس اہم معاملے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔سینئر تجزیہ کار مظہرعباس کاتبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 19:31

اگلے 2 مہینے میں آئینی بحران پیدا ہونے والا ہے، مظہرعباس
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 اکتوبر2019ء) سینئر تجزیہ کار مظہرعباس نے کہا ہے کہ اگلے 2مہینے میں آئینی بحران پیدا ہونے والا ہے، چیف الیکشن کمشنر کی مدت پوری ہورہی ہے، اگر چیف الیکشن کمشنر کی نامزدگی پر حکومت اور اپوزیشن میں کوئی فیصلہ یا رابطہ نہ ہوا تو الیکشن کمیشن کا کیا ہوگا؟حکومت اس اہم معاملے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے سے ریاست جام ہوجاتی ہے۔

میرا نہیں خیال نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمان لچک نہیں دکھائیں گے۔کیونکہ 2012ء میں جب دھرنا دیا تھا تو پیپلزپارٹی کی حکومت نے ان سے بات چیت کی ۔ لیکن موجودہ حکومت میں ایسا نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور طاہر القادری کے 126دن کے دھرنے میں بھی مذاکرات کیے گئے اور پھر کمیشن بنایا گیا۔

(جاری ہے)

مولانا فضل الرحمان طاہر القادری یا خادم رضوی نہیں ہے۔

مظہرعباس نے کہا کہ اگلے 2مہینے میں آئینی بحران پیدا ہونے والا ہے، چیف الیکشن کمشنر کی مدت پوری ہورہی ہے، اگر چیف الیکشن کمشنر کی نامزدگی پر حکومت اور اپوزیشن میں کوئی فیصلہ یا رابطہ نہ ہوا تو الیکشن کمیشن کا کیا ہوگا؟حکومت اس اہم معاملے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔بلوچستان اور سندھ کے ممبران خود نامزد کردیے جو کہ مسئلہ سپریم کورٹ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی بھی استعمال ہوجاتا ہے۔بعض اوقات صحافی سمجھتے ہیں ہم ٹھیک کام کررہے لیکن بعد میں پتا چلتا کہ وہ استعمال ہوگئے۔مذہب کا استعمال ہردور میں ہر تحریک میں ہوا ہے۔ حبیب اکرم نے کہا کہ حکومت خود بھی مذہب کارڈ استعمال کررہی ہے اور خادم رضوی کے دھرنے میں کرتی بھی رہی ہے۔مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مارچ کرنے والے آئیں گے تودیکھ لیں گے،مولانا کے بارے بات کرنے کی ضرورت نہیں،بہت بات ہوچکی۔انہوں نے کہاکہ کابینہ میں ردوبدل وزیراعلیٰ کا استحقاق ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ جو کام کرے گا وہ رہے گا جو کام نہیں کرے گا وہ نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ موبائل ہیلتھ یونٹ کی خرابی پر کمشنر ساہیوال سے رپورٹ طلب کی ہے۔