گورنر سندھ عمران اسماعیل نے آزاد کشمیر سے متعلق متنازع ٹویٹ کردیا

عمران اسماعیل نے آزاد کشمیر کو پاکستان مقبوضہ علاقہ قراردیا، کچھ دیر غلطی کا احساس ہونے پر ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار جنوری 21:11

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے آزاد کشمیر سے متعلق متنازع ٹویٹ کردیا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 جنوری 2020ء) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے آزاد کشمیر سے متعلق متنازع ٹویٹ کردیا،عمران اسماعیل نے آزاد کشمیر کو پاکستان مقبوضہ علاقہ قراردیا، کچھ دیر غلطی کا احساس ہونے پر ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے آزاد کشمیر کو پاکستان کا مقبوضہ علاقہ ہونے سے متعلق متنازع ٹویٹ کردیا ہے، انہوں نے اپنے ٹویٹ میں آزاد کشمیر کو پاکستان مقبوضہ علاقہ قراردیا۔

کچھ دیر غلطی کا احساس ہونے پر ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا۔ گورنر اسماعیل نے 11بج کر 15منٹ پر بھارتی خبر پر ٹویٹ کیا۔ گورنر سندھ نے ایسا ٹویٹ کیا کہ پاکستانی کشمیر پالیسی کی دھجیاں اڑا دیں۔ جس پر لوگوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے مقبوضہ علاقے آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کیلئے تیار ہیں۔

(جاری ہے)

جس پر پاکستانی صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
تجزیہ کاروں نے بھی شدید تنقید کی ہے کہ یہ ٹویٹ کشمیر سودے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ جس پر گورنر سندھ نے اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا۔ واضح رہے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز جرمن میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ کشمیر کے لوگوں کو ہی یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں،پاکستان کسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کے لیے تیار ہے،یہ فیصلہ کشمیریوں کو خود کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزادی۔

اس سوال پرکہ ’’کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کشمیر کے تنازعے پر بہت کم توجہ دے رہی ہی ‘‘ جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ افسوس لیکن ایسا ہی ہو رہا ہے۔ آپ ہی سوچیے کہ ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہروں کو میڈیا کتنی توجہ دے رہا ہے ، کشمیر کا المیہ تو اس سے بہت ہی بڑا ہے۔عمران خان کہ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے ان کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں،انہوں نے کہا کہ بھارت نے آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کی وجہ سے اس پر کوئی بہت اچھا ردعمل ظاہر نہیں کیا، یہ بات اس وقت بھی پوری طرح ظاہر ہو گئی تھی، جب بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا، حالانکہ اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے مطابق بھی یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے۔

آزاد کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہاکہ ہم دنیا کے کسی بھی حصے سے کسی کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں،آئیے، پہلے آزاد کشمیر کا دورہ کیجیے اور پھر مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں اور خود ہی فیصلہ کر لیجیے۔عمران خان نے کہاکہ آزاد کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں اور عوام ہی وہاں کی حکومت منتخب کرتے ہیں،کسی بھی دوسری انتظامیہ کی طرح، ان کی بھی مشکلات ہیں ، ہماری طرف سے دنیا بھر سے مبصرین کو بلا لیجیے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مبصرین کشمیر کے پاکستانی حصے میں جا سکتے ہیں مگر انہیں مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔