مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے امریکی صدر نے صدی کی سب سے بڑی ڈیل کا اعلان کر دیا

مجوزہ ڈیل کے تحت فلسطینی ریاست غیر خودمختار ہوگی اور اس کے پاس اپنی فوج بھی نہیں ہوگی، اسکا دارلحکومت مشرقی یروشلم ہو گا

Usama Ch اسامہ چوہدری منگل جنوری 22:40

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے امریکی صدر نے صدی کی سب سے بڑی ڈیل کا اعلان ..
واشنگٹن (ارو پوائنٹ اخبارتازہ ترین 28 جنوری 2020) : مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے امریکی صدر نے صدی کی سب سے بڑی ڈیل کا اعلان کر دیا، مجوزہ ڈیل کے تحت فلسطینی ریاست غیر خودمختار ہوگی اور اس کے پاس اپنی فوج بھی نہیں ہوگی، اسکا دارلحکومت مشرقی یروشلم ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے جس ’ڈیل آف سنچری‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت غیر خودمختار فلسطینی ریاست کو پیش کیا گیا ہے جس کے پاس فوج نہیں ہوگی یا اسکا دارلحکومت مشرقی یروشلم ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ٹرمپ نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) پی ایل او اور فتاح کے صدر محمود عباس اس کو مسترد کردیں گے۔ اس لیے اس کی تیاری کے لیے محمود عباس سے چار سال کا وقت مانگا جائیگا۔

(جاری ہے)

اس حوالے اسرائیلی عہدیداروں کو اطلاع دی گئی ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے 70 فیصد علاقے پر غیر خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہوگی جس کا دارالحکومت بیت المقدس یروشلم کے پڑوس ہوگا۔

یروشلم ، بشمول مسجد اقصیٰ اور دیگر تمام مقدس مقامات ، اسرائیلی زیر اقتدار رہیں گے۔ تاہم ، مسلم اور عیسائی مقامات کا انتظام پی اے اور اسرائیل مشترکہ طور پر کریں گے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ پیش رفت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔ واضع رہے کہ فلسطین کی طرف سے اس منصوبے کو رد کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر کا کہنا ہے کہ میرا یہ منصوبہ فلسطینیوں کے لیے آخری موقع ہو سکتا ہے، مشرقی وسطیٰ امن منصوبہ 80 صفحات پر مشتمل ہے جو کہ اب تک کا سب سے مفصل منصوبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینی بہتر زندگی کے مستحق ہیں۔