پشاور یونیورسٹی میں سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام دو روزہ ورکشاپ اختتام پذیر

منگل فروری 17:02

پشاور یونیورسٹی میں سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام دو روزہ ورکشاپ اختتام ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 فروری2020ء) پشاور یونیورسٹی میں سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام دو روزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہوگیا جس میں چھ یونیورسٹیز کے طلبہ نے شرکت کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز ظہورآٖفریدی نے کہا کہ عدم برداشت سمیت بعض سماجی برائیاں قانون کی حکمرانی اور عملداری کی راہ میں رکاوٹ ہے اگر اس پر قابو پالیا جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے منشیات کا استعمال اور کاروبار معاشرے میں کئی برائیوں کو جنم دے رہا ہے جرائم پر قابو پانا صرف پولیس کی کوششوں سے ممکن نہیں اس مقصد کیلئے نوجوانوں سمیت معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیاکی بجائے کتاب سے اپنی دوستی برقرار رکھے جمہوریت بہتر طرز حکمرانی اور احتساب کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل چترالی نے کہا کہ معاشی استحکام اور انسانی حقوق کی فراہمی قومی تحفظ اور مستحکم جمہوریت کے بنیادی اجزا ہیں اور اس مقصد کیلئے نوجوان کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیںقانون کی حکمرانی انسانی حقوق کی فراہمی اور حقیقی جمہوریت قومی استحکام کے بنیادی لوازمات ہیں جس کیلئے ہمیںکوشش کرنی چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اداروں میں اندرونی احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے پر زوردیا پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر عبد الروف ،سینئر صحافی اور مصنف شمس مومند،ماہر تعلیم شگفتہ گل اورسی آر ایس ایس کے پروگرام منیجر مصطفی ملک نے بھی ورکشاپ سے خطاب کیا اور معاشرہ کے تمام افراد وطبقات کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے پر زوردیاآخر میں طلباء وطالبات میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کی گئیں۔