عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلے کی طرح مفاہمت نہیں ہے

وزیراعظم اور ریاستی اداروں کے درمیان سب اچھا نہیں ہے،شریف خاندان اس پر خوش ہیں،اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ نرمی کی جائے۔ ہارون الرشید کا دعویٰ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ فروری 10:49

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلے کی طرح مفاہمت نہیں ہے
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 فروری 2020ء ) سینئر صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور ریاستی اداروں کے درمیان سب اچھا نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں اس سطح کی مفاہمت نہیں ہے۔البتہ مخاصمت بھی نہیں ہے۔شریف خاندان اس پر خوش ہیں۔دونوں طرف تحفظات موجود ہیں،عمران خان کا موقف ہے کہ وہ نہیں جائیں گے اور حالات کا مقابلہ کریں گے۔

اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ اپوزشین کے ساتھ نرمی کی جائے۔ہارون الرشید کے مطابق عمران خان کو پارٹی کے اندر بھی مخالفت کا سامنا ہے۔دوسرا واقعہ یہ ہوا ہے کہ جہانگیر تریجن اپنے بلند مقام سے نیچے اتر آئے ہیں۔ایک واقعہ یہ ہوا ہے کہ آئی بی کو غیر معمولی طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

آئی بی کے چیف سلیمان کو مضبوط کر دیا گیا ہے۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بینک بھی جا سکتے ہیں۔

آئی بی نے رپورٹ دی تھی کہ جہیانگیر ترین نے گندم کے بارے میں گڑ بڑ کی ہے۔یہیں سے معاملہ خراب ہوا ہے۔اسد عمر کے بھی عمران خان اختلافات ہے۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جہانگیر ترین اب عمران خان کے خلاف بات کرتے ہیں۔خیال رہے کہ کہ کچھ عرصہ سے یہ باتیں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت جانے والی ہے،عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دراڑیں پیدا ہو گئی ہیں۔

تاہم گذشتہ روز وزیراعظم نے صحافیوں کے دوران گفتگو میں یہ بات واضح کی کہ حکومت کہیں جانے والی نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ فوج اس لیے میرے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ میں کرپٹ نہیں۔ملٹری ایجنسیز کو معلوم ہوتا ہے کون کیا کر رہا ہے۔ اگر کوئی سیاستدان کرپشن کرتا ہے تو انہیں پتہ چل جاتا ہے۔عمران خان نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ ہے کہ یہ حکومت کامیاب ہوئی گئی تو ہماری دکانیں بند ہو جائیں گی اور یہ جیلوں میں ہوں گے۔