پی ایس ایل میں 36 انٹرنیشنل کھلاڑی حصہ لینے کے لئے آرہے ہیں‘

قومی کرکٹ ٹیم کا انتخاب سلیکشن کمیٹی کرتی ہے‘ وزارت کا اس میں کوئی کردار نہیں‘ وزارت بین الصوبائی رابطہ

پیر فروری 20:28

پی ایس ایل میں 36 انٹرنیشنل کھلاڑی حصہ لینے کے لئے آرہے ہیں‘
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 فروری2020ء) قومی اسمبلی کو وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پی ایس ایل میں 36 انٹرنیشنل کھلاڑی حصہ لینے کے لئے آرہے ہیں‘ قومی کرکٹ ٹیم کا انتخاب سلیکشن کمیٹی کرتی ہے‘ وزارت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ سیریز کے دوران اچھے اوپننگ بیٹسمین اور بائولرز سامنے آئے ہیں‘ ہم نئے کھلاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں جس سے پاکستان کرکٹ ٹیم مزید بہتر ہوگی۔

پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اقبال محمد علی خان کے سوال کے جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو صرف آئی سی سی یا اس سے متعلقہ اراکین کے منظور کردہ ٹورنامنٹس کھیلنے کے لئے این او سی جاری کئے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

پی سی بی نے اپنے کھلاڑیوں کے لئے حال ہی میں این او سی کے اجراء کی پالیسی پر نظرثانی کی ہے۔ اقبال محمد علی خان کے ضمنی سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری صائمہ ندیم نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر پاکستان میں بہت سے کھلاڑی نہیں آئے تھے۔

حالات ٹھیک ہوئے ہیں تو اس مرتبہ پی ایس ایل میں 36 انٹرنیشنل کھلاڑی آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کھلاڑیوں کو سال میں تین لیگز کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں۔ شمیم آراء پنہور کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری صائمہ ندیم نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت پی سی بی طویل المدتی پالیسی کی تشکیل کر رہی ہے۔ ہم نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ شعیب ملک آئوٹ آف فارم تھے‘ محمد حفیظ زخمی تھے۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے خلاف ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمارے نئے ٹیسٹ کھلاڑی سامنے آئے ہیں۔ سید صلاح الدین کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ حکومت ٹیم کا انتخاب نہیں کرتی۔ تمام سپورٹس فیڈریشنز بااختیار ہیں۔ ٹیموں کا انتخاب سلیکشن کمیٹیاں کرتی ہیں۔ ہر کام میرٹ پر ہوتا ہے۔ وزارت کا صرف سپروائزری کردار ہوتا ہے۔ سرفراز احمد اچھے کھلاڑی ہیں ان کا انتخاب کیوں نہیں ہوا اس کا جواب سلیکشن کمیٹی ہی دے سکتی ہے۔