جیسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،بدقسمت طیارے میں سوار ہونے کیلئے شہری کی تین کوششیں ناکام رہیں

میری جگہ زین پولانی فیملی سمیت حادثہ میں جاں بحق ہو گئے، میں سوچ رہا تھا کہ کاش مجھے یہ ٹکٹ مل جاتا جس سے پانچ لوگوں کی جان بچ جاتی ۔ سید مصطفیٰ کا اردو پوائنٹ کو انٹر ویو

Salman Javed Bhatti سلمان جاوید بھٹی ہفتہ مئی 17:00

جیسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،بدقسمت طیارے میں سوار ہونے کیلئے شہری کی ..
کراچی ( اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 23 مئی 2020 ء ) جیسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ، بدقسمت طیارے میں سوار ہونے کیلئے شہری کی تین کوششیں ناکام رہیں۔ تفصیلات کے مطابق سید مصطفیٰ نامی شہری نے بدقسمت طیارے میں سوار ہونے کیلئے بھرپور کوششیں کی تاہم بینکنگ پروسیس سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری ایئر لائن میں میرے ایک دوست نے مجھے ایک دن قبل ہی ٹکٹ بک کرا دی جس کے بعد میں باخیر و آفیت کراچی پہنچا۔

سید مصطفیٰ نے کہا کہ میری کوشش تھی کہ دوپہر ایک بجے کی فلائیٹ حاصل کی جائے کیونکہ کراچی میں 5 بجے لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ نہ ہونے پر مسائل کا سامنا ہو سکتا تھا۔ اردو پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں جو سیٹ بک کر رہا تھا اس پر زین نامی شخصیت 13Aپر سوار ہو گیا جو اپنے اہل خانہ سمیت ہی اس افسوس ناک واقعے میں جاں بحق ہوگیا ۔

(جاری ہے)

سید مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ سب کو یہی معلوم تھا کہ میں اسی پرواز میں آ رہا ہوں جو حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز جسیے ہی افسوسناک حادثہ پیش آیا ، میرے رشتہ داروں اور عزیز واقارب کی جانب سے فونز کال آنا شروع ہو گئی اور انہوں نے میری خیریت دریافت کی ۔ سید مصطفیٰ نے کہا کہ میں سوچ رہا تھا کہ کاش مجھے یہ ٹکٹ مل جاتا جس سے پانچ لوگوں کی جان بچ جاتی ۔

انہوں نے بتایا کہ ہم یتیم بچوں کی کفالت کررہے ہیں اور غریب علاقوں میں بیمار بچوں کیلئے امداد اور تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب اللہ کے فیصلے ہیں ۔ میں بھی شادی شدہ ہوں اور اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہوں۔ یاد رہے زین پولانی فیملی بھی کراچی طیارہ حادثے کا شکار ہوگئے تھے ۔ یحییٰ پولانی کے بھتیجے اور زکریا پولانی کے چھوٹے صاحبزادے بیوی بچوں سمیت حادثے کا شکار ہوگئے۔

پولانی فیملی کے پانچ افراد بدقسمت طیارے میں سوار تھے۔یحییٰ پولانی کے بھتیجے زین پولانی،ان کی اہلیہ اور تین بیٹے حادثے کا شکار ہوئے۔حادثے کی شکار شاہدہ لندن میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی اور وہاں اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ مقیم تھیں۔چند روز قبل ہی ان کی فیملی کو لندن سے لاہور کی پرواز ملی تھی اور اب وہ لاہور سے عید منانے اپنے گھر آرہے تھے کہ اس حادثے کا شکار ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر ان کی بچوں کے ساتھ تصاویر بھی وائرل ہو رہی ہیں جس نے دیکھنے والوں کو آبدیدہ کردیا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ ہنستا بستا ہوا گھرانہ منٹوں میں اجڑ گیا, زین پولانی اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت طیارہ حادثہ میں شہید, بچے اپنی نانی کے گھر عید منانے کیلئیے والدین کے ہمراہ کراچی آرہے تھے, ﷲ پاک درجات بلند فرمائے۔
.ایک صارف نے کہا کہ
ایک صارف سے فیملی کے حادثے کا شکار ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔