ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکہ ’مداخلت‘ سے باز رہیں، چین

چین، امریکہ کو محض اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا، وزارت خارجہ

ہفتہ مئی 00:04

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکہ ’مداخلت‘ سے باز رہیں، چین
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 مئی2020ء) چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔

چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون ہانگ کانگ میں آزادی کی ضمانت کے لیے چین کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ ’براہ راست متصادم‘ ہے۔خیال رہے کہ قانون چین کے مرکزی حصے کے حکام کی جانب سے ہانگ کانگ حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست نافذ کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز چین کی پارلیمان نے کثرت رائے سے ہانگ کانگ پر قومی سلامتی کی قانون سازی کے براہ راست نفاذ کی منظوری دے دی تھی تاکہ شورش، بغاوت، دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت سے نمٹا جاسکے۔

اس ضمن میں بیجنگ نے کہا کہ اس نے چاروں ممالک کے خلاف باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم متعلقہ ممالک سے چین کی خودمختاری کا احترام کرنے (اور) ہانگ کانگ اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔انہوں نے امریکی نقطہ نظر کو ’بالکل غیر معقول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین، امریکا کو ’محض اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیگا۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بے ہودہ سیاسی جوڑ توڑ کو فوری طور پر بند کرے۔