علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی سپریم باڈی نے سالانہ بجٹ برائے 2020-21ء کی منظوری دیدی

پیر جون 23:18

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جون2020ء) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی سپریم باڈی (ایگزیکٹو کونسل) نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم کی زیر صدارت منعقدہ اپنی 117ویں اجلاس میں یونیورسٹی کے سالانہ بجٹ برائے سال(2020-21ئ) کی منظوری دیدی ہے۔ اِس بجٹ کا زیادہ تر فوکس یونیورسٹی کی ترقیاتی کاموں ،ْ ملازمین اور طلبہ کی سہولتوں میں اضافے پر رکھا گیا ہے۔

اجلاس میںاتفاق رائے سے جن ایجنڈا آئٹمز کی منظوری دی گئی ہے ان میںترقیاتی کاموں کیلئے انڈونمنٹ فنڈ کا قیام ،ْ علاقائی دفاتر کو کرایہ کی مکانوں سے اپنی بلنڈنگزمیں منتقل کرانا ،ْ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی نیٹ میں توسیع کیلئے سرکاری حکام اور مخیر شخصیات سے پلاٹس بطور عطیہ وصول کرنے کیلئے کوششیں کرنا شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی مورو (سندھ)، سکھر اور مظفر آباد میں ریجنل سینٹرز کی اپنی بلڈنگز کی تعمیر کیلئے پلاٹس بطور عطیہ حاصل کر چکی ہے اور یہاں پر بلڈنگز کی تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء القیوم نے بتایا کہ یونیورسٹی ملک کے چار محروم طبقات )ہر قسم کی معذوری میں مبتلا افراد ،ْ خواجہ سراء ،ْ جیلوں میں مقید افراد اور ڈراپ آئوٹ گرلز( کو مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے اور بجٹ 2020-21ء میں اِس کام کیلئے مختص بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ایجنڈا آٹمز جن کی منظوری دیدی گئی ہے، میںیونیورسٹی کے ملازمین کی سیکنڈ شفٹ میں اضافہ ،ْ لاک ڈائون کے باعث سکولز بند ہیں اس لیے رہائشی کالونی کے بچوں کے سکولزکی پیک اینڈ ڈراپ کے چارجزکی کٹوتی یکم اپریل سے تاحکم ثانی روک دی گئی ہے ۔

وائس چانسلر نے اجلاس کواس بات سے بھی آگاہ کیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دیگر جامعات کو ریکرننگ بجٹ کا 40 سے 50 فیصد گرانٹ دی جبکہ ہمیں 4 سے 5 فیصد گرانٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو 410 ملین گرانٹ کا وعدہ کیا تھا جبکہ موجودہ بجٹ میں یونیورسٹی کو صرف 20 ملین گرانٹ مہیا کی گئی جو ہمارے ریکریننگ بجٹ کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔