جون میں ریکارڈ سطح کی کارکنوں کی ترسیلات ِ زر موصول ہوئیں

پیر جولائی 19:10

جون میں ریکارڈ سطح کی کارکنوں کی ترسیلات ِ زر موصول ہوئیں
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 جولائی2020ء) جون 2020 کے دوران کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں 50.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور وہ ریکارڈ بلند سطح 2,466.2 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ جون 2019 میں 1,636.4 ملین ڈالر کی ترسیلات ِزر موصول ہوئی تھیں۔ اسی طرح مجموعی بنیاد پر مالی سال 20 کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر 23,120.7 ملین ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں اور ان میں مالی سال 19 کے دوران موصول ہونے والی 21,739.4 ملین ڈالر کی ترسیلات زر کے مقابلے میں 6.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔

یہاں یہ ذکر بے محل نہ ہوگا کہ کارکنوں کی ترسیلات زر کی آمد میں مارچ تا جون 2020 کے وبا کے عرصے میں 2019 کی اسی مدت کی بہ نسبت 7.8 فیصد کا اضافہ ہوا ۔جون 2020 کے دوران سعودی عرب (619.4 ملین ڈالر)، امریکہ (452.0ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات 431.7 ملین ڈالر اور برطانیہ 401.0 ملین ڈالر سے کارکنوں کی ترسیلات زر کی زیادہ رقوم موصول ہوئیں جن سے مئی 2020 کے مقابلے میں بالترتیب 42.0 فیصد، 7.1 فیصد، 33.5 فیصد اور 40.8 فیصد کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

جون 2020 کے دوران موصول ہونے والی ترسیلات زر میں یہ نمایاں اضافہ کئی عوامل سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ جون میں بیشتر ممالک نے لاک ڈان میں نرمی کردی اس لیے سمندر پار پاکستانی جمع شدہ رقوم منتقل کرسکے جو وہ پہلے نہ بھیج سکے تھے۔ مزید برآں، یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے کووڈ 19 کے باعث اپنے اہل خانہ اور احباب کی مدد کے لیے ترسیلات زر بھیجیں۔

ان عوامل کے علاوہ حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کوششوں نے بھی مالی سال 20 کے دوران بالعموم اور مارچ تا جون 2020 کے کووڈ 19 کے عرصے کے دوران بالخصوص کارکنوں کی ترسیلات زر کی آمد بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ اعانتی حکومتی پالیسیوں نے بھی کردار ادا کیا جن میں چھوٹی رقوم بھیجنے والوں کو ٹی ٹی چارجز کی واپسی کی اسکیم (فری سینڈ ریمیٹنس اسکیم)کی توسیع ، جس کے تحت چارجز 200 ڈالر سے کم کرکے 100 ڈالر کردیے گئے، نیز مالی اداروں کے لیے مارکیٹنگ اسکیم کی ترغیبات کے دائرے میں توسیع شامل ہے جس نے باضابطہ چینلز کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے کی ترغیبات بڑھائیں۔

مزید یہ کہ ٹیکنالوجی پر مبنی رقوم کی منتقلی کرانے والی کمپنیوں کو اسٹیٹ بینک اور پی آر آئی کی جانب سے آن بورڈ لیے جانے سے بھی لاک ڈان کے دھچکے کو برداشت کرنے میں مدد ملی۔ مالی اداروں کو موثر مارکیٹنگ مہمیں چلانے کی تحریک ملی جن میں قانونی چینلز کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ترسیلات زر بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے ڈجیٹل چینلز پر خاص زور دیا گیا۔