مجھے کمر کی تکلیف ہے، زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا، شہبازشریف

عدالت کا حکم ماننے کو تیار ہوں، مجھے اسلام آباد جانا ہے، مجھے کمر کی تکلیف ہے، اس لیے زیادہ کھڑا نہیں ہو سکتا، میں گاڑی میں بھی لیٹ کر جاتا ہوں، صدر مسلم لیگ ن کا عدالت میں جواب

Khurram Aniq خُرم انیق جمعرات اگست 13:42

مجھے کمر کی تکلیف ہے، زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا، شہبازشریف
لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-06اگست2020ء) مجھے کمر کی تکلیف ہے، زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ آج احتساب عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی ہے جس میں بات کرتے ہوئے وکیل شہبازشریف کی جانب سے عدالت میں درخواست کی گئی تھی کہ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر رکھا ہے، کشمیر کمیٹی کا سیشن ہے، شہبازشریف کو اس سلسلے میں اسلام آباد جانا ہے، لہٰذا انہیں جانے کی اجازت دی جائے۔

تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہبازشریف پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے انہیں بلایا گیا ہے، وہ نہیں جا سکتے۔ تاہم اس موقع پر بات کرتے ہوئے شہبازشریف کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عدالت کا حکم ماننے کو تیار ہوں، مجھے اسلام آباد جانا ہے، مجھے کمر کی تکلیف ہے، اس لیے زیادہ کھڑا نہیں ہو سکتا، میں گاڑی میں بھی لیٹ کر جاتا ہوں۔

(جاری ہے)

عدالت نے کہا کہ آپ کے وکیل کو فردِ جرم پر اعتراض ہے، ان کے دلائل سن لیں۔شہباز شریف کے وکیل نے استدعا کی کہ رمضان شوگر ملز کیس میں فردِ جرم عائد نہ کی جائے۔ جس پر فاضل جج نے ان سے کہا کہ آپ کے پاس تمام قانونی حقوق ہیں، وہ آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مجھے فردِ جرم کی گراؤنڈ نہیں دی گئیں، فردِ جرم کی گراؤنڈ دیکھ کر میں قانون کے مطابق اپنا حق استعمال کرتا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل رمضان شوگر ملز ریفرنس میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اب نیب متحرک ہو گئی ہے جس کے بعد مریم نواز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ احتساب عدالت لاہور میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف کو ہر صورت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے دونوں کے وکیل کی فردِ جرم عائد نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔01 جولائی کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے شہبازشریف کی عدم پیشی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف نہ ہسپتال میں داخل ہیں اور نہ وینٹی لیٹر پر ہیں ، دو منٹ کے لیے عدالت پیش ہو جاتے تاکہ ٹرائل کا آغاز ہوجاتا۔

احتساب عدالت کے جج امجد نذیرچودھری نے رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت کی۔جیل حکام نے حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا۔۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے انکی حاضری معافی کی درخواست دائر کی جس کی نیب پراسیکیوٹر نے مخالفت کی اور عدالت نے شہباز شریف کے وکیل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل کے مطابق تینوں ہفتوں میں کرونا وائرس کی رپورٹ منفی آئی ہے، عدالت نے قرار دیا کہ اصولی طور پر شہباز شریف کو پیش ہونا چاہیے تھا، جج امجد نزیر چوہدری نے برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف ہسپتال میں داخل بھی نہیں ہیں اور نہ ہی وینٹی لیٹر پر ہیں بلکہ گھر میں آئسولیٹ ہیں، دو منٹ کے لیے عدالت آئیں تاکہ ٹرائل کا آغاز ہوسکے جس پر شہباز شریف کے وکیل نے بتایا کہ انکے ڈاکٹر کے مطابق 2 جولائی کو ا ن کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ دوبارہ کیا جائے گا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف نومبر 2019ء سے عدالت پیش نہیں ہورہے انکے نمائندے یہاں موجود ہیں لہٰذا عدالت فرد جرم عائد کر کے ٹرائل کا آغاز کرے، ملزم کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ شہباز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونگے۔عدالت نے شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 6 اگست کو دوبارہ طلب کر لیا۔عدالت نے حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی چھ اگست تک توسیع کی تھی