سعودی عرب میں 63 سال سے مقیم پاکستانی ڈاکٹر کاہر طرف چرچا ہو گیا

ڈاکٹر نذیر احمد خان شکل صورت، بول چال اور لباس سے مکمل سعودی معلوم ہوتے ہیں، پچھلے 40 سال سے صرف 30 ریال فیس لے رہے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر ستمبر 09:30

سعودی عرب میں 63 سال سے مقیم پاکستانی ڈاکٹر کاہر طرف چرچا ہو گیا
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21 ستمبر2020ء) سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جوایک طرف روزگار کما کر پاکستان کو زر مبادلہ بھیجتے ہیں تو دوسری جانب اپنی محنت اور لگن سے سعودی عرب کی ترقی اور استحکام میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ مملکت میں ایسے پاکستانیوں کی گنتی ہزاروں میں ہے جو گزشتہ تیس چالیس سالوں سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ان لوگوں نے سعودی عرب کو ایک پسماندہ ملک سے ترقی یافتہ اور جدید سہولیات سے آراستہ ملک میں بدلتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

سعودی عرب میں ایک ایسا پاکستانی ڈاکٹر بھی مقیم ہے جسے یہاں رہتے ہوئے 63 سال گزر چکے ہیں۔ اُردو نیوز کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں 63 برس سے رہائش پذیر پاکستانی ڈاکٹر کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

یہ پاکستانی ڈاکٹر شکل، صورت، رہن سہن، بول چال اور زندگی بسر کرنے کے لحاظ سے ہر طرح سعودی باشندہ ہی معلوم ہوتا ہے اور اس معاشرے میں رچ بس گیا ہے۔

۔پاکستانی ڈاکٹر نذیر احمد خان کا وڈیو کلپ سرکاری رابطہ مرکز نے سوشل میڈیا میں شیئرکیا ہے۔نذیر احمد خان وڈیو میں بتا رہے ہیں کہ ریاض کے تین کلینکس میں سے ایک کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ ریاض میں الفوطہ ، مسجد العید اور المرقب نام کے تین پولی کلینک ہوتے تھے۔
ان میں سے ایک وہ ڈائریکٹر تھے۔نذیر احمد خان نے سعودی عرب کے حوالے سے یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک انصاف، رحم دلی اور خیر پسندی سے آباد ہے اور اپنی آخری سانس تک اس کی خدمت کرتا رہوں گا۔

نذیر احمد خان نے کہا کہ میرے کلینک میں بوڑھے اور بچے طبی معائنہ کرانے آتے ہیں۔ ان سے معائنہ فیس 30 ریال وصول کی جاتی ہے۔ یہ فیس انہوں نے شاہ فیصل کے زمانے میں مقرر کی تھی تب سے اب تک اسی پر قائم ہیں۔ 30 ریال سے زیادہ فیس نہیں لیتے۔